Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry غزلیات

غزل

جہاں میں جو بھی نُور و جَمال ہے
وُہ سب حقیقت میں اُس کا وِصال ہے

دِل کی گہرائیوں میں جو چَمک رَہا
وُہی رَوشنی ہے، وُہی اِک جَمال ہے

خاموشیوں میں بھی اِک صَدا سُنی ہے
جو دِل کو چھُو لے، وُہی رازِ کَمال ہے

آںکھیں تو دیکھتی ہیں نُور و رَنگ کی دُنیا
مگر دِل پہچانے، وُہی اَصل جَمال ہے

رَاہ کٹھَن ہے، قَدَم تھکیں تو بھی ٹھَہرو
صَبر و عِشق سے ہی مِلے رُوحِ کَمال ہے

ہر لَمحہ اِمتحان، ہر گھڑی ہے پیغام
جو سَمجھ لے اُس کو، وُہی سَبقِ جَمال ہے

اِفری! یہ جِتنی بھی حِسِّ جَمال ہے
حِکمَت ہی اَصل میں رُوحِ کَمال ہے

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *