Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry غزلیات

غزل

أشک آنکھوں سے خواب دُھندلا دیتے ہیں

تیری یادوں کے چراغوں کو جب ہوا دیتے ہیں

تُم جو بِچھڑے تو کوئی رنگ نہ باقی رہا

ہم تو ہر منظر کو اب سادہ سا بنا دیتے ہیں

بَند آنکھوں میں تِری صُورت اُتَر آتی ہے

خواب بھی اب تِری آہوں کا پَتا دیتے ہیں

دل کے زخموں کو چُھپاتے ہیں ہَنسِی ہَنسِی ہم لوگ

اور خاموش نگاہوں سے بھی دِلاسہ دیتے ہیں

ہم نے آنکھوں میں بَسا رکھا ہے خوابوں کا نَگَر

تُم جو آتے نہیں، ہم خواب میں صَدا دیتے ہیں

تیری ہر بات ہمیں یاد ہے موسم کی طرح

کبھی جُھونکے کی طرح آ کے، کبھی سزا دیتے ہیں

سچ بتاؤں تو تِری یاد سے بنتی ہے غزل

ورنہ لفظوں کو کہاں خُود سے ہم صَدا دیتے ہیں

اِفری تُم کہتے ہو، بُھلا دو ہمیں، ہم ہَنس کے سَہیں

دل مگر ٹوٹ کے ہر بار تمھیں دُعا دیتے ہیں

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *