Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

سجدہ اُس کو

چاند تمہارے آنگن میں اترتا ہے

مگر وہ تمہارے دُکھ نہیں جانتا۔

سورج تمہیں گرمی دیتا ہے

مگر وہ تمہارے دل کی سردی نہیں پگھلا سکتا۔

تو کیوں جھکتا ہے اُس کے سامنے

جو خود روشنی کا محتاج ہے؟

کیوں جھکتا ہے اُس کے سامنے

جس نے کبھی تجھے نام لے کر نہ پکارا؟

جھک، مگر اُس کے آگے

جس نے تجھے خاموشی میں آواز دی

اندھیرے میں پہچانا

اور تنہائی میں اپنا ہاتھ رکھا تیرے دل پر۔

یہ پتھر، یہ سیارے

یہ آسمان، یہ چمکدار دائرے

یہ سب مسافر ہیں

تو کیوں ان کے قدموں میں منزل ڈھونڈتا ہے؟

تُو ایک روح ہے

اور روح کا سجدہ صرف اُس کے لیے ہے

جو ابتدا سے بھی پہلے تھا

اور انجام کے بعد بھی باقی رہے گا۔

سجدہ کرو

مگر دل سے

سجدہ کرو

مگر صرف اُسی کے لیے جو تمہیں

خود تم سے زیادہ جانتا ہے۔

وہی خالق

جو روشنی کو حکم دیتا ہے: “چمک”

اور ظلمت کو کہتا ہے: “ٹھہر”۔

جو چاند کو مسکراہٹ دیتا ہے

اور انسان کو آنکھیں

تاکہ وہ پہچان سکے

کہ سجدہ صرف اُسی کے لیے ہے۔

….اِفری…..

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *