Kheyal Darya

A mound of thoughts

Soul سچی کہانی

موت کا لمس اور زندگی کی حقیقت

میں ہسپتال کے آئی ای یو وارڈ میں دل کی سرجری کے بعد کچھ دن رہا تو دوسروں کی کیفیت (حالانکہ اسی سے میں بھی چند دن پہلے گزر تھا دیکھ کیا حیرت ہوتی تھی “چوہدری”، بٹ” اور ملک صاحبان جو بڑے پھنے خان بنتے تھے دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتے!
اس کی برعکس ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ:
آپ نے کبھی کسی مردہ جسم کو چھوا ہے؟
یا کم از کم اس کے قریب کھڑے ہوکر اسے دیکھا اور اس پر غور کیا ہے؟
یہ لمحہ انسان کی زندگی کے اُن تجربات میں سے ہے جو دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایک لمحے میں سمجھ آتا ہے کہ جس جسم میں ابھی تک حرارت تھی، جو بولتا تھا، مسکراتا تھا، محبت کرتا تھا، وہ اب خاموش ہے! جی بالکل خاموش۔
موت کا لمّس
مردہ جسم کو چھونا یا اس کے قریب جانا محض ایک جسمانی تجربہ نہیں بلکہ ایک روحانی جھٹکا ہے۔
یہ اعلان ہے کہ زندگی عارضی ہے، وقت قیمتی ہے اور ہم سب نے لوٹ کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
“كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ”
ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے
[آلِ عمران: 185]
میرا ایک مرحوم دوست کہا کرتا تھا “رہے او وی نہی، رہنے اے وی نہی!”
گویا ہمیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ کوئی بھی اس انجام سے بچ نہیں سکتا۔
کسی کو چھونے اور قریب سے دیکھنے میں بہت سارے اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب انسان کسی لاش کے قریب جاتا ہے تو اس کے سامنے یہ حقیقت کی یادہانی پوتی ہے کہ دنیاوی شان و شوکت، مال و دولت، اقتدار یا شہرت! کچھ بھی ساتھ نہیں جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ”
لذّتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کا زیادہ ذکر کیا کرو!
[ترمذی]
موت کا ذکر اور لاش کو دیکھنا دل کو نرم کرتا ہے، غرور توڑتا ہے، اور انسان کو اپنی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ انسان جو بڑا طُرم خان بنتا ہے اتنی نازک شے ہے کہ جسم میں گردش کرتے خون میں اگر چربی کا چھوٹا سا ٹکڑا یا معمولی چوٹ لگ جاۓ تو وہ جانور جیسا ہو جاتا ہے!
میری اس تحریر کے پیچھے فکر بھی یہی ہے عملی سبق حاصل ہو!
1. وقت ضائع نہ کریں : کل کا یقین نہیں، آج کا لمحہ قیمتی ہے۔
2. نیک اعمال کی تیاری کریں : موت کا سامنا صرف ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آسان ہوگا۔ اللہ کو یاد کریں ، نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل درود و سلام بھیجتے رہیں اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں!
3. رشتوں کی قدر کریں : وہی لوگ کل ہمارے کفن دفن میں شامل ہوں گے جنہیں آج ہم نظر انداز کرتے ہیں۔
4. غرور کو توڑیں : نسب کچھ یہی رہ جانا ہے۔
حاصل تحریر یہ ہے کہ
مردہ جسم کو دیکھنا یا چھونا دراصل زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ “ہم سدا کے مسافر ہیں”، ہماری اصل منزل یہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آج کا دن بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے جہاز کا حادثہ پیش آیا اور طاقت ور لوگ بھی اس عام انسانوں کی طرح اس کا شکار ہوۓ!
لہٰذا ہر لمحہ اللہ کو یاد کریں، دل کو نرم رکھیں، دوسروں کے ساتھ محبت کریں اور نیکی کے بیج بوئیں، تاکہ جب ہمارا جسم مٹی کے سپرد ہو تو رُوح اللہ کی رحمت کے سایے میں سکون پائے۔
اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ امین
شکریہ۔۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ، العین
تاریخ: ۱۷ اگست، ۲۰۲۵

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *