Kheyal Darya

A mound of thoughts

سچی کہانی

چشمہ (دل کی بیداری)

چشمہ (دل کی بیداری)
دل کے آپریشن کے بعد میری دنیا بدل گئی!
مگر شاید دنیا نہیں بدلی، بس میری آنکھ کا شیشہ بدل گیا تھا۔
اب جب میں چشمہ اتارتا ہوں تو دیواریں نرم لگتی ہیں،
روشنی کے ذرات میں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں،
اور میں خود کو اُس خاموشی میں تحلیل ہوتا محسوس کرتا ہوں
جہاں وقت صرف ایک سانس کا نام ہے۔
میں اب وہ نہیں رہا جو آپریشن سے پہلے تھا۔
میرا دل اب میرے حکم پر نہیں دھڑکتا،
وہ کسی اور کی مرضی سے چلتا ہے۔
شاید اُس “کُن” کے اثر سے
جس نے ایک لمحے میں مجھے فنا سے بقا میں بدل دیا۔
اب میرے بدن سے خوشبو آنے لگی ہے۔
یہ وہ خوشبو نہیں جو پھولوں میں ہوتی ہے،
یہ وہ خوشبو ہے جو گناہوں کی راکھ سے اٹھتی ہے
جب انسان کا باطن توبہ کی روشنی سے جل کر پاک ہو جاتا ہے۔
میری بیوی کہتی ہے، “یہ کسی نئی دوا کا اثر ہے”،
مگر میں جانتا ہوں ،
یہ اُس لمس کا اثر ہے جو دل کو چھو کر گیا۔
میں اب وقت کی قید سے آزاد ہو گیا ہوں۔
جہاں جانے کا سوچتا ہوں، وہاں پہنچ جاتا ہوں۔
کبھی کسی ویران کوچے میں جہاں بچے ننگے پاؤں دھوپ میں کھیلتے ہیں،
کبھی کسی بلند محل میں جہاں لوگ سونا تولتے ہیں مگر مسکراہٹ نہیں۔
میں دونوں جگہوں پر ایک ہی خاموشی سنتا ہوں!
ایک بھوک کی، ایک خوف کی۔
غریب کی آنکھ میں امید مرتی نہیں،
اور امیر کی آنکھ میں نیند آتی نہیں۔
میں نے دیکھا، انصاف کے کٹہرے میں
سچ اپنا چہرہ چھپاتا ہے،
اور ظلم مخمل کی کرسی پر بیٹھا
خود کو قانون کہتا ہے۔
پھر ایک دن میں نے خود کو شہر کے بیچ کھڑا پایا ہر طرف دوڑتے لوگ، بولتے اشتہار،
اور میں، اپنی جیب میں صرف ایک دھڑکن لیے،
سوچ رہا تھا:
کیا یہ سب خواب میں ہے، یا خواب ہم میں؟
میں نے دل سے پوچھا،
“یہ خوشبو کہاں سے آتی ہے؟”
دل نے کہا،
“جب ظلم کے درمیان کوئی انسان بیدار ہوتا ہے،
تو اس کے بدن سے رحمت کی خوشبو اٹھتی ہے۔
وہ خوشبو جسے فرشتے پہچانتے ہیں۔”
اب میں جب چشمہ پہنتا ہوں،
دنیا کی چمک نظر آتی ہے مگر اس کی سچائی غائب ہو جاتی ہے۔
اور جب چشمہ اتارتا ہوں،
ہر شے میں ایک نور دکھائی دیتا ہے!
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی بھوکے بچے کے چہرے پر،
کسی بےبس ماں کی دعا میں۔
میں سمجھ گیا ہوں،
دل کا آپریشن محض خون کے بہاؤ کا علاج نہیں تھا،
یہ روح کی شریانوں میں عدل، درد، اور روشنی کے بہاؤ کا آغاز تھا۔
اب میں جہاں چاہتا ہوں پہنچ جاتا ہوں —
کیونکہ میں کسی جسم میں نہیں،
اللہ کی نگاہِ کرم کے ساۓ میں سانس لے رہا ہوں۔
دنیا اب میرے لیے خواب نہیں،
بلکہ ایک بیدار ہوتا مکاشفہ ہے!
جہاں ہر آنکھ، ہر چہرہ،
کسی نہ کسی امتحان کا عکس ہے۔
میں اب آئینے کے سامنے نہیں رکتا،
کیونکہ جان گیا ہوں:
آئینہ چہرہ نہیں دکھاتا ،
وہ نیت دکھاتا ہے۔
اور میرا دل،
اب اُس روشنی کا مسکن بن گیا ہے
جو عدل کی خوشبو، اور سچ کی آگ سے جل کر
انسان کو انسان بناتی ہے۔
———
اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *