نایاب پہچان
سوشل میڈیا پر بارہا ایسی تصویریں اور پروفائیلز دیکھنے کو ملتیں ہیں جس میں تفاخر اور تکبر سا انداز ہوتا ہے۔ لیکن ایسے تمام دوستوں کو مشورہ ہے کہ بجا آپ:
“اپنی شخصیت کی اصالت اور اپنی انفرادیت پر بہت فخر کرو، کیونکہ تم اس دنیا میں کسی سے مشابہ نہیں ہو، اور یہ تمہاری نایاب پہچان ہے۔”
لیکن چلیں اسے اسلامی زوایہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں جس میں اللہ نے انسان کی انفرادیت، عزت اور اصل شخصیت کے بارے میں کئی مقامات پر روشنی ڈالی ہے۔ آئیے چند بنیادی نکات دیکھتے ہیں:
1. انسان کی تخلیق منفرد اور بامقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو الگ مزاج،
صلاحیت اور شکل میں پیدا کیا ہے :
انسان کی انگلیوں کے پوروں پر غور کریں تو موجود لکیریں (Fingerprints) صدیوں سے شناخت کے لئے سب سے معتبر ذریعہ مانی جاتی ہیں۔ فنگر پرنٹس کی بناوٹ:
• انگلیوں کے پوروں پر جو باریک باریک لکیریں اور وادیاں (Ridges & Valleys) بنی ہوتی ہیں، ان کا نقشہ ہر انسان میں منفرد (Unique) ہوتا ہے۔
• یہ لکیریں رحمِ مادر (Pregnancy کے دوران) ہی بن جاتی ہیں اور زندگی بھر نہ بدلتی ہیں نہ مٹتی ہیں، حتیٰ کہ جلا ہوا یا زخمی چمڑا بھی وقت کے ساتھ دوبارہ وہی پیٹرن بنا لیتا ہے۔
آخر یہ منفرد کیوں ہیں؟
• دنیا میں دو افراد کے ایک جیسے فنگر پرنٹس کبھی نہیں ملے، حتیٰ کہ جڑواں بچے بھی الگ الگ نشانات رکھتے ہیں۔
• ہر فنگر پرنٹ میں مخصوص منیوٹائی پوائنٹس (Minutiae Points) ہوتے ہیں، جیسے:
• Loop (چکر نما لکیریں)
• Whorl (گول گھومتی لکیریں)
• Arch (کمان نما لکیریں)
• ان پوائنٹس کا مجموعہ ایک ڈیجیٹل دستخط بناتا ہے، جو شناخت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
شناخت کے نظام میں انہیں کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
1. پولیس اور کرائم انویسٹیگیشن → مجرموں کو پکڑنے کے لئے فنگر پرنٹس استعمال ہوتے ہیں۔
2. قانونی دستاویزات → انگوٹھے کے نشان کو “حتمی ثبوت” مانا جاتا ہے۔
3. ڈیجیٹل سیکیورٹی → موبائل فون، بایومیٹرک اے ٹی ایم، اور دفاتر میں حاضری سسٹم میں فنگر پرنٹس استعمال ہو رہے ہیں۔
4. امیگریشن اور پاسپورٹ کنٹرول → زیادہ تر ممالک شناخت کے لئے فنگر پرنٹس لیتے ہیں۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ:
• فنگر پرنٹس کو سب سے پہلے 1892 میں فرانسس گیلٹن (Francis Galton) نے سائنسی طور پر شناخت کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ متعارف کرایا۔
• آج یہ دنیا کا سب سے پرانا اور اب بھی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد بایومیٹرک سسٹم ہے۔
سبحان اللہ! اس نے انگلیوں کے پوروں کے زریعے بھی الگ بنایا ہے۔
اور پھر آج کے جدید دور میں انسان کی آنکھ کا “آئرس” (Iris) الگ شناخت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تاکہ کوئی بھی دوسرے کی بالکل نقل نہ ہو۔
آئرس (Iris) کیا ہے؟
• یہ آنکھ کے بیچ میں موجود رنگین دائرہ ہوتا ہے (جو آنکھ کے رنگ – کالا، بھورا، نیلا وغیرہ – کو طے کرتا ہے)۔
• آئرس کے اندر باریک باریک لکیریں، نقاط، اور ڈیزائن ہوتے ہیں جو ہر انسان میں بالکل منفرد (Unique) ہوتے ہیں۔
• یہاں تک کہ جڑواں بچے (Identical twins) بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔
کیوں آئرس شناخت کے لئے بہترین ہے؟
1. ہر شخص کا آئرس پیٹرن لازوال (Stable) رہتا ہے – زندگی بھر نہیں بدلتا۔
2. اس کی بناوٹ اتنی باریک اور پیچیدہ ہے کہ نقل ممکن نہیں۔
3. کمپیوٹر اور اسکینر سے اس کا پیٹرن پڑھ کر Iris Recognition System میں شناخت کی جاتی ہے۔
4. یہ آجکل پاسپورٹ کنٹرول، ایئرپورٹس، اور سیکیورٹی سسٹمز میں استعمال ہو رہا ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ :
آج بایومیٹرک سیکیورٹی میں آئرس اسکیننگ کو
• فنگر پرنٹ (Fingerprints)
• چہرے کی پہچان (Face Recognition)
سے بھی زیادہ محفوظ مانا جاتا ہے۔
اب قران الکریم میں اللہ کے ارشادات کے حوالے دیکھتے ہیں۔
“وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ”
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا مختلف ہونا۔ بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
سورۃ الروم، 22
گویا فرمانِ الہی کے مطابق ہر انسان کی انفرادیت (زبان، رنگ، شخصیت) اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
2. اللہ نے ہر ایک کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔
“لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ”
ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔
سورۃ التین، 4
یعنی بہترین ہونے کے لئے بھی تو ہر انسان کا اپنی اصل اور ذات میں نایاب اور باکمال ہونا ضروری ہے۔
3. اصل فضیلت تقویٰ ہے، نہ کہ دنیاوی چیزیں۔ قرآن میں اللہ نے واضع کر دیا کہ کسی کا قیمتی ہونا نہ نسل پر ہے، نہ رنگ پر، نہ دنیاوی برتری پر، بلکہ صرف تقویٰ پر ہے۔
“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”
بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
سورۃ الحجرات، 13
یہاں انسان کو سکھایا گیا ہے کہ اپنی اصل انفرادیت اور پہچان پر فخر کرو، لیکن غرور نہیں، بلکہ تقویٰ اور پاکیزگی کے ساتھ۔
4. ہر شخص ایک الگ آزمائش اور الگ مقصد رکھتا ہے۔
“يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ”
اے انسان! یقیناً تو اپنے رب کی طرف محنت کرتا ہوا جا رہا ہے، پھر تُو اس سے ملاپ کرے گا۔
سورۃ الانشقاق، 6
یعنی ہر شخص کا سفر الگ ہے، اور اس کی اصل شناخت اسی جدوجہد میں ہے۔
اس سب یاد دہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے زریعے سے اللہ تعالی انسان کو سکھاتا ہے کہ تمہاری اصل انفرادیت اللہ کی نشانی ہے۔ تمہیں ویسا ہی بنایا گیا جیسا کوئی اور نہیں۔ لیکن اس انفرادیت کی حقیقی قدر تب ہے جب وہ تقویٰ، نیک عمل اور عاجزی کے ساتھ ہو۔
شکریہ۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ- العین
![]()

