ہر قَدَم پہ دُکھ کا سایَہ ساتھ رہتا ہے
ہَوا کے جُھوںکے بھی رازِ دِل کے سَںبھالتے ہیں
راستوں میں بھٹکتے ہیں خواب او آرزو کے
پھُولوں کی خُوشبُو بھی کبھی ہمیں ڈَراتی ہے
کبھی ہَس کے گُزرتے ہیں لَمحَے پُرانے
کبھی اَشک بَہَا کے یادیں گُںواتے ہیں
دُنیا کے میلے میں ہم سب اَجنَبی لگتے ہیں
پر دِل کی راہ میں مُحبّت کے چِراغ جَلتے ہیں
یہ جو لَڑائی ہے، یہ جو تھَکن ہے، اِفری
وٗہ بھی ہمیں مَنزِل کی طرف ہی لے جاتا ہے
کہا “اِفری” نے، دُکھ اور خُوشی کی راہوں میں
ہمیں اپنے ہونے کا راز بَتاتا ہے
اِفری
![]()

