Kheyal Darya

A mound of thoughts

لیکچرز

غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع

غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع

انسانی معاشرے آپسی طے شدہ اصولوں اور اقدار کے بَل بوتے پر ترقی کرتی ہیں اس کے برعکس اِن سے انحراف بد امنی ، فساد اور خطوات شیطان کی پیروی کا باعث ہوتا ہے۔

کچھ معاشروں میں “خبر بریک “ کرنے کی دوڑ میں بھی لوگ اسی بیماری کا شکار یا شیطانی پیروکار بنے ہوۓ ہیں۔ یہ صرف میڈیا، سوشل میڈیا کی بات نہیں بلکہ تاریخی حقیقت بھی ہے جس کی ممانعت ناصرف اسلامی تعلیمات میں زور دیا گیا ، دیگر مذاہب ، علماء اور حکماء کرتے آۓ ہیں۔

یاد رکھیں قرآنِ مجید و احادیثِ رسول اللہ ﷺ میں انہی برائیوں سے منع کیا گیا مثلا” غیبت کی ممانعت یوں جب قران میں ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور تم میں سے کوئی اپنے (مُردہ) بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟
تمہیں تو یہ سخت ناگوار ہے۔”

(سورۃ الحجرات 49:12)

گویا بتایا گیا کہ غیبت اتنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل قرار دیتی ہے کہ اس کی مثال مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے دی گئی۔

انہی اقدار کے بارے میں مزید احادیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

1. غیبت کی تعریف

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرو جو اسے ناگوار گزرے۔”
صحابہؓ نے عرض کیا: اگر وہ بات اُس میں ہو؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر وہ بات اُس میں ہے تو یہ غیبت ہے، اور اگر نہیں ہے تو یہ بہتان ہے۔”

(مسلم: 2589)

2. فضول اور بےکار باتوں سے بچنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں ہیں۔”

(ترمذی: 2317)

3. زبان کے وبال سے ڈرنا

آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے دے، میں اُس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔”

(بخاری: 6474)

اسلامی تعلیمات کی دی گئی مثالوں سے اُن کی اہمیت کا انداز لگایا جا سکتا ہے۔ اسلا ہمیں بہت واضع اصول سکھاتا ہے:

1. سچائی: بغیر تحقیق کسی بات کو آگے نہ بڑھاؤ (الحجرات 49:6)

2. بھلائی: ایسی بات کہو جس سے خیر اور محبت پھیلے (الأحزاب 33:70)

3. نفع: صرف وہی بات کرو جو فائدہ مند ہو، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔”
(بخاری و مسلم)

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے لقمان حکیم کو حکمت عطا کرنے کا ذکر کیا
ہے۔
سورۃ لقمان 31:12)۔

تفسیر و روایات میں ان کی نصیحتیں ملتی ہیں:

– سچائی کی وصیت:

کہا کرتے تھے: “اے میرے بیٹے! ہمیشہ سچ بولو تاکہ لوگ تم پر اعتماد کریں۔”

– غیبت سے بچاؤ:
نصیحت فرماتے: “بیٹا! دوسروں کی خامیوں کو بیان کرنے سے پہلے اپنی خامیوں پر نظر ڈال۔”

– لغو کلام سے پرہیز:
فرمایا: “اگر کلام حکمت نہ لائے تو خاموشی اُس سے بہتر ہے۔”

اب انہیں باتوں کے حوالے سے مشھور یونانی عالم و فلاسفر سقراط کی حکمت و دانائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس نے کہا کہ جب کوئی تمہارے پاس غیبت لے کر آئے… تو “تین فلٹرز چھاننیاں” لگانا یاد رکھو۔ مشہور واقعہ ہے۔

ایک پُرسکون دن، ایک شخص اُس کے قریب آیا، آنکھوں میں جوش کی چمک لیے بولا:

کیا آپ سننا چاہیں گے کہ میں نے آپ کے دوست کے بارے میں کیا سنا ہے؟

سقراط نے سکون سے ہاتھ اٹھایا، اور گہری نگاہوں کے ساتھ کہا:

ذرا رُک جاؤ… اس سے پہلے کہ تم کچھ کہو، آؤ تمہاری بات کو ایک فلٹر/چھلنی سے گزاریں، جسے میں “تین فلٹرز/چھاننیاں” کہتا ہوں۔

تین چھاننیاں؟ آدمی نے حیرت سے پوچھا۔

جی ہاں، ، سقراط نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
پہلی چھاننی ہے “سچائی کی چھاننی”۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ جو بات تم کہنے والے ہو وہ بالکل درست ہے؟

نہیں… میں نے یہ بس اِدھر اُدھر سے سنی ہے، آدمی نے جھجکتے ہوئے کہا۔

تو ہم سچائی نہیں جانتے۔ اب آؤ دوسری چھاننی آزمائیں: “خیر کی چھاننی”۔ کیا تمہاری بات میرے دوست کے بارے میں کچھ اچھا بیان کرتی ہے؟

نہیں، بلکہ الٹا… اُس شخص نے آہستہ کہا۔

اچھا، سقراط نے پر سکون انداز میں کہا، تو تم ایسی بات پھیلانے جا رہے ہو جو نہ سچی ہے اور نہ ہی اچھی۔

اب تیسری چھاننی باقی ہے: “نفع کی چھاننی”۔ کیا جو بات تم مجھے سنانے والے ہو وہ میرے لیے فائدہ مند ہوگی؟

حقیقت یہ ہے کہ… نہیں۔

سقراط نے نرمی سے مسکرا کر کہا:

تو پھر اگر تمہاری بات نہ سچی ہے، نہ اچھی، اور نہ ہی مفید… تو اُس کا فائدہ ہی کیا ہے؟

اپنی بات کو اس سادہ چھاننی یا فلٹر سے گزارنا ہمارے دلوں اور رشتوں کو بچاتا ہے، ہماری زندگی کو روشن کرتا ہے، اور معاشرے میں خیر کو پروان چڑھاتا ہے۔

کنفیوشس چینی حکیم و فلسفی کی تعلیمات اخلاقیات اور معاشرتی اصولوں پر مبنی ہیں:

– سچائی:

کہتے تھے: “جو شخص سچائی سے محروم ہے، اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ چھوٹے معاملات ہی کیوں نہ ہوں۔”

– غیبت سے اجتناب:

ان کی ایک نصیحت ہے: “بڑے لوگ دوسروں کے بارے میں بھلائی کی بات کرتے ہیں، کمزور لوگ دوسروں کی خامیوں کو اچھالتے ہیں۔”

– لغو باتوں سے گریز:
کہا کرتے تھے: “عاقل وہ ہے جو سوچ کر بولے، اور وہی الفاظ زبان سے نکالے جن سے خیر پیدا ہو۔”

عالمی سطح پر انہیں برائیوں کے بارے میں کہاوتیں اور ضرب الامثال موجود ہیں ۔

غیبت کے بارے میں

– عربی کہاوت: “من نقل إليك نقل عنك”
یعنی جو تمہیں کسی کی بات لا کر دے، وہ تمہاری بات بھی دوسروں تک پہنچائے گا۔

– انگریزی کہاوت:
“Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people.”

مطلب بڑے ذہن خیالات پر بات کرتے ہیں، اوسط لوگ واقعات پر، اور چھوٹے لوگ دوسروں پر۔

جھوٹ کے بارے میں

– فارسی کہاوت: “دروغ‌گو حافظه ندارد”
جھوٹا شخص حافظے کا مالک نہیں ہوتا۔

– انگریزی کہاوت:
“A lie has no legs.”
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

– افریقی کہاوت:
“A liar will not be believed, even when he speaks the truth.”
جھوٹا جب سچ بھی بولے تو لوگ یقین نہیں کرتے۔

لغو بات کے بارے میں

– عربی کہاوت: “إذا كان الكلام من فضة فالسكوت من ذهب”

اگر بات چاندی ہے تو خاموشی سونا ہے۔

چینی کہاوت:
“Silence is a source of great strength.”
خاموشی بڑی طاقت کا سرچشمہ ہے۔

– برصغیر کی کہاوت: “خاموشی سب سے مضبوط دلیل ہے۔”

✨ اس طرح ہم اس تحریر سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات، لقمان حکیم، کنفیوشس اور عالمی حکمتیں سب ایک ہی طرف اشارہ کرتی ہیں:

– سچائی کو اپناؤ
– غیبت اور برائی سے بچو
– فضول کلام کے بجائے سکوت کو ترجیح دو

اندازہ لگائیں ان تعلیمات سے معاشرے میں کتنا سدھار اور مثبت روی پیدا ہو سکتی ہے!

شکریہ۔۔

دُعاؤن کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *