نظم: زنجیروں کے دیس میں
جلے ہیں چراغوں کے نیچے ضمیر
خریدی گئی ہے صداقت کی زنجیر
یہاں عدل بہرا، عدالت خموش
سنے کون فریاد، ہے کون روش؟
یہاں قحط ہے رزق کا، پیٹ خالی
مگر فخر پوشوں پہ ہے ماہ و سالی
وطن کی زمیں چپ، فلک بھی گواہ
کہ نوچا گیا ہے اسے بارہا
لٹیروں نے نیت کا سودا کیا
ضمیرِ بشر کو بھی رسوا کیا
یہاں ہر سحر ہے اسی قید میں
نہ شمس و قمر ہیں کسی رید میں
کبھی تم بھی آؤ، سنو اس زمیں
جہاں بیچتے ہیں خدا کی قسمیں
————–
نظم: لہو مانگتی ہے یہ مٹی ابھی تک
فعولن فعولن فعولن فعولن
یہ مٹی ابھی تک لہو مانگتی ہے
ضمیرِ وطن کو نمو مانگتی ہے
جہاں عدل کو نیند آتی ہے شب میں
وہاں چیختی ہے صدائیں طلب میں
خریدی گئی ہیں دعائیں سکوں کی
چُرائی گئی روشنی دل کی خوں کی
کبھی بھوک سوتی ہے تن پر کفن میں
کبھی نان ملتا نہیں اہلِ فن میں
یہ بازارِ صدق و وفا بند کیوں ہے؟
ضمیرِ بشر اس قدر سرد کیوں ہے؟
یہ محروم بچپن، یہ مجبور مائیں
یہ پاؤں ننگے، یہ سسکی دعائیں
جو اہلِ نظر تھے، وہ اب بے نظر ہیں
یہ دار و رسن اب ہماری خبر ہیں
جو حق کے لئے بولتا ہے، وہ غائب
ہوئے نوچ کر لفظ، لب تک نہ آئے
کہاں جا کے ہم اب فغاں رکھیں گے؟
کہ جب آئنے بھی زباں رکھیں گے؟
خدا کی قسم، اس زمیں پر ابھی بھی
درختوں کی شاخوں میں جلتے ہیں جی بھی
——————
نظم: خوابوں کے تابوت میں دفن شہر
یہاں شہر جلتا ہے خوابوں کی صورت
نہ چھت ہے، نہ سایہ، نہ رستوں میں مہلت
عدالت ہے گویا کوئی مُہر شدہ قبر
قلم بھی ہے مجبور، سچ کہنے سے ڈر
ضمیرِ حریفاں بِکے بخت کی بولی
یہ الفاظ بھی زرد، یہ سانسیں بھی گولی
یہاں وقت بھی بیچتا ہے زمانہ
مگر نیند میں بھی نہیں ہے فسانہ
کبھی جو علم تھا، وہ اب باندھ کر بند
مسلسل ستم میں ہے ہر خواب، ہر چند
کسی کو خبر ہے؟ ضمیروں پہ بَیلیں؟
نہ مسجد میں آذن، نہ اسمبلی میں مَیلیں
یہ زنجیر پہنے ہوئے شہری چہرے
کہ جیسے ابھی قید ہوں آئنے کے
میں تاریخ کے سائے میں بیٹھا ہوں تنہا
کہ گنتا ہوں صدیوں کی زخمی تمنا
یہی ہے مری قوم کی آنکھوں کا ماتم
یہی حرفِ آخر، یہی شوقِ مرہم
A City Buried in the Coffin of Dreams
Here the city burns in the shape of dreams,
No roofs, no shade, no pause upon the streets.
Justice appears like a sealed grave,
Even the pen is helpless, afraid of truth.
The conscience of rivals is sold at the price of fate,
Words have turned sallow, each breath a bullet.
Here even time is traded by the age,
Yet not even in sleep does a tale take form.
What once was knowledge is now bound and shut,
Every dream, in every guise, endures unending cruelty.
Does anyone know? Vines choke the conscience—
No call from the mosque, no stir in the assembly.
Faces of citizens wear chains,
As if they remain imprisoned within mirrors.
I sit alone beneath the shadow of history,
Counting centuries of wounded longing.
This is the mourning in my nation’s eyes,
This is the final word, this the yearning for a cure.
Recorded…………English and Urdu.
![]()
