میں حاضر ہوں
میں آپ کو زمین کے سب سے زیادہ مبارک اور انمول مقامات کے سفر پر خوشی سے مغلوب ہوں۔ میرا مقصد آپ کو سڑک اور گلیوں میں چلانا اور چلنا نہیں ہے بلکہ اسلام کی صحیح تفہیم کے لئے مطلوبہ…
Success And Failure.
What is success? Success is the achievement of a desired goal. It can be different for everyone, depending on their personal values and priorities. Some people may define success as achieving financial wealth, while others may define it as making…
![]()
Fear And It’s Different Types?
Fear is a complex emotion that is often defined as a response to a perceived threat or danger. It can be caused by a wide range of factors, both real and imagined, and it can manifest itself in a variety…
![]()
حکایت 13: دیوار اور میں
دیوار اور میں گاؤں کے ایک کچے مکان کے سامنے میں تنہا بیٹھا تھا۔ وہ مکان اب بھی وقت کے تھپیڑوں کے باوجود قائم تھا۔ میرے سامنے مٹی کی دیوار کھڑی تھی، خاموش مگر اپنے اندر کئی صدیاں چھپائے ہوئے۔…
![]()
ماں کی دُعا
کَئی بار سوچا ہے، مائیں کَب مَرتی ہیں؟ اِتنا ضَرور ہے، پَردہ تو سَب کَرتی ہیں۔ ماں ایک سَلیقَہ ہے، جینے کا طریقَہ ہے، دُنیا میں بے ڈَھںگا کام کَب کَرتی ہیں؟ بَچے اگر بھُول بھی جائیں، گِلہ نہیں کَرتی،…
![]()
بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں
مُقدَّر میں تو نَہیں، کیا مَیں خُود سے ہارُوں؟ بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں یا خُود کو مارُوں؟ یہ وَقت کا کھیل ہے یا خواب کا پَردَہ؟ کیا مَیں رُک جاؤں یا آگے بَڑھُوں مردَہ؟ ہَر سانس میں اُمِّید کا چراغ…
![]()
بِھڑوں کا محاذ
بِھڑوں کا محاذ دیہاتی (پینڈو) بچوں کی بہادری کی کہانی بچپن کے دن بھی کیا دن تھے! دیہات میں نہ کمپیوٹر تھا، نہ موبائل، نہ ویڈیو گیمز۔ کھیل کے لیے بس کبڈی، درختوں پر چڑھنا، غلیل سے پرندوں کا شکار…
![]()
مسافر اپنی منزل کے – نظم
لڑ رہے ہیں رہ میں ہی کیوں یہ سب افری ہیں گر سارے مسافر اپنی منزل کے آزادی کے نشان لئے ہم چل پڑے ہیں کٹھن راہوں میں خون کے رنگ بھی سہتے ہیں ظلم کی زنجیر ٹوٹ جائے گی…
![]()
سَمَجھا نَہیں
مَستی میں تھا وہ سَچّائی سَمَجھا نَہیںمِرے لَہجے کی گَہرائی سَمَجھا نَہیں نابِینا تھا وہ دُنیا کی طَلَب میں اِتناکیا ہے دِل کی بَینائی سَمَجھا نَہیں مَر رَہے ہیں روٹی کو تَرَستے ہیں لوگاَمِیرِ وَطَن اَبھی نَوحَہءِ مَہنگائی سَمَجھا نَہیں…
![]()
سمجھا نہیں
مستی میں تھا وہ سچائی سمجھا نہیںمیرے لہجے کی گہرائی سمجھا نہیںنابینا تھا وہ دُنیا کی طلب میں اتناکیا ہے دل کی بینائی سمجھا نہیںمر رہے ہیں روٹی کو ترستےہیں لوگامیرِ وطن ابھی نوحۂ مہنگائی سمجھا نہیںبیچ دیا ہے وطن…
![]()

