ترانۂِ حَیات
جَہاں بھی لے چَلے تَجھے یہ دُنیا، مَت وہاں جانا خُدی کی راہ پر چَلنا، یہ رَستَہ ہے، یہِی مانا نہ حالاتِ جَہاں کی دھَار پر خُود کو بَہَا دینا قَدَم اپنی سَمْت رکھنا، ہے یہِی جینے کا تَرانَہ ہَمیشۂ…
![]()
قومی کردار اور ایماندار قیادتیں
قومی کردار اور ایماندار قیادتیں جنگِ عظیم کے بعد جب جاپانی یورپ میں گھومتے تھے، تو مغربی لوگ انہیں کیمرہ تھامے تصویریں بناتے دیکھ کر ہنسا کرتے۔ لیکن وہی جاپانی اپنی ری انجینئرنگ، محنت اور عزم کے ذریعے دنیا کو…
![]()
ڈر جاتا ہوں۔
سبحان ہے وہ ذات جس نے میرے دل میں دو ضدّوں کو جمع کر دیا،انتہائی شجاعت کو بھی اور انتہائی بزدلی کو بھی۔ میں بھیڑیے کی گھورتی آنکھوں سے نہیں ڈرتا جو مجھے تاک رہا ہوتا ہے،لیکن اُس ہرنی جیسی…
![]()
کہتے ہیں: “مرد اگر کسی عورت سے محبت کرے تو اسے اپنے دل میں چھپا لیتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں دوسروں کی نظر نہ پڑ جائے اور کوئی اسے چھین نہ لے..! اور عورت جب کسی مرد سے محبت کرے تو وہ اس کا کھل کر اظہار کرتی ہے، تاکہ کوئی دوسرا اس کے قریب آنے کی کوشش نہ کرے..! مرد اصول کے لیے کسی بھی شخص کی قربانی دے سکتا ہے… جبکہ عورت اپنے محبوب کے لیے کسی بھی اصول کی قربانی دے دیتی ہے..! پس مرد عقل ہے… اور عورت دل ہے… اور جان لو: عورت کو یہ ثابت کرنے کے لیے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ وہ “عورت” ہے، مگر مرد کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ “مرد” ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: «مرد ان کے موقف سے پہچانے جاتے ہیں»!!!
کہتے ہیں“مرد اگر کسی عورت سے محبت کرے تو اسے اپنے دل میں چھپا لیتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں دوسروں کی نظر نہ پڑ جائے اور کوئی اسے چھین نہ لے ..!اور عورت جب کسی مرد سے محبت…
![]()
خواب سُہانا یاد ہے
چَلے جَب پَردیس ہَم، دِل کو مَنانا یاد ہےماں کے آنچَل میں چُھپا خواب سُہانا یاد ہے ریت پر چَلتے ہُوئے سائے بھی رُوٹھے تھے بَہتدھوپ میں تَنہا کِسی پیڑ کا آنا یاد ہے خواب بُنتی تھی کَبھی رات کی…
![]()
وارِث ہوا کرتے ہیں۔ نظم
رات کی خاموشیوں میں جو آہستہ قدم رکھتے ہیں وُہ صدیوں کے بھَید جاننے والے ہوا کرتے ہیں۔ جو ہونٹوں پر الفاظ نَہ لائیں، مگر دل کی آواز سُنیں وُہ خاموش نغمَہ ساز ہوا کرتے ہیں۔ گلوں کے موسم میں…
![]()
دام جا بِجا ہیں نظم
بِچھے فَریب کے دام جا بِجا ہیں لَمحاتِ کَرب کُچھ ایسے رَوا ہیں چَہرے پر مُسکان، دِل میں دُھوکہ ہَر خُوشی میں دَرد کا سایَہ رَوا ہیں راہِ صَبر طَویل، مَنزِل نَظَر میں نَہیں ہَر قَدَم پر کانٹے، ہَر لَمحَہ…
![]()
خٰاموش نظم اردو
نِکلے تھے ہم گاؤں سے رُسوا خٰاموش گَلی وِیران، بَند تھا اُس کا دَروازَہ خٰاموش تیرے عارِض کے حَوالے لِکھتے رَہے سَدا تُو بولتا نَہیں ہے، بَس ہے کیوں تَکتا خٰاموش راستے سَب سُنسان، سَایہ بھی ہِچکچَا گیا دَرختوں کے…
![]()
خَاموش نظم فارسی
بِدِه رُسوا شدیم و زِ جان خَاموش دَر و کُوچه بُبود و نِشان خَاموش بَرِ رُویم نِگارِ تُو نوشتیم ما تُو نَگفتی سُخَن، بَس چرا تَکتا خَاموش؟ هَمه راه و کُوچه شُد از غُبار بَرگ و سَایه زِ بیمِ هَوا…
![]()
غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع
غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع انسانی معاشرے آپسی طے شدہ اصولوں اور اقدار کے بَل بوتے پر ترقی کرتی ہیں اس کے برعکس اِن سے انحراف بد امنی ، فساد اور خطوات شیطان کی پیروی کا باعث ہوتا…
![]()