آنکھوں کے بالکل سامنے
نعمتِ نظر، ادراکِ دل اور حقیقت کو دیکھنے کا ہنر
بچپن میں دوسری جماعت کا ایک مختصر سا جملہ تھا:
“آنکھوں والو، آنکھوں کی قدر کرو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں!”
اُس وقت یہ ایک سادہ سی نصیحت لگتی تھی، مگر زندگی کے تجربات نے اسے میرے لیے ایک ایسی ضرب المثل بنا دیا جو ہر موڑ پر سچ ثابت ہوتی رہی۔
حالیہ دنوں میں سمندر میں ڈوبنے والے پاکستانیوں سمیت بہت سارے انسانوں کی ویڈیوز دیکھ کر افسوس ہوا تو سوچا اپنا درد کاغذ کے ساتھ بانٹا جاۓ۔ جو ہمیشہ ہمارے دکھڑے سن اور برداشت کر لیتا ہے۔ انسان کے پاس آنکھیں تو ہوتی ہیں، مگر دیکھتا وہ تب ہے جب دل بیدار ہو۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سچ، حل، فائدہ، موقع سب کچھ بالکل سامنے پڑا ہوتا ہے، مگر انسان کی نظر گھومتی ہوئی تمناؤں اور باہری خواہشوں میں بھٹکی ہوتی ہے، اس لیے اسے نظر ہی نہیں آتا۔
درزی کی قینچی جو سامنے ہو تو بھی غائب
میں ایک درزی کے پاس بیٹھا اپنے کپڑے سلوانے گیا تھا۔ وہ پریشان حال میز الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا:
“کیا ڈھونڈ رہے ہو؟”
وہ بولا: “قینچی نہیں مل رہی!”
حالانکہ قینچی اُس کے بالکل سامنے میز پر رکھی تھی۔
ایسا ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے جب جو چیز ہماری روزمرہ کا حصہ ہو، جو بالکل آنکھوں کے سامنے موجود ہو، وہی اکثر ہماری نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
خاندانی زمین ! زرخیزی نظر کی بھی ہوتی ہے
کچھ سالوں پہلے کا واقعہ ہے کہ ہمارے قریبی گاؤں ایک کسان نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ زمین بیچ کر پردیس نہ جانا، کیونکہ یہی زمین اس کا اصل خزانہ ہے۔
بیٹا طنزیہ ہنسا:
“ابا، جس زمین سے دادا کو سونا نہ ملا، آپ کو نہ ملا، مجھے کیا ملے گا؟ یہ زمین تو بنجر ہے!”
باپ نے کہا:
“سونا مٹی میں نہیں ہوتا، محنت میں ہوتا ہے۔ میں نے تجھے تعلیم اسی لیے دلوائی تھی کہ تو اس زمین میں نئی زندگی ڈال سکے گا۔”
مگر بیٹے نے مشورہ رد کر دیا۔
انسان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اپنی اصل نعمت کو اُس وقت نہیں پہچانتا جب وہ اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔
ڈھابے پر بیٹھا دانشمند اور ایک حقیقت کا انکشاف
کچھ دن بعد ایک مسافر دانشمند اس علاقے سے گزرا۔ اس نے وہی زمین دیکھی میلوں تک بے آباد پڑی تھی، سنسان، بنجر، سوکھی۔
چائے کے لیے ڈھابے پر رکا، تو منظر حیران کن تھا:
- نوجوان ٹولیاں بنا کر کمرے میں کیرم کھیل رہے تھے
- کچھ بلیئرڈ میں مصروف تھے
- کچھ باہر برگد کے صدیوں پرانے درخت کی چھاؤں میں تاش پر جھگڑ رہے تھے
- بلند آواز میں گیت، چیخ پکار، دھواں، شور…
- کسی کے چہرے پر فکر نہیں، نہ محنت کا کوئی نشان
مسافر نے ڈھابے والے سے پوچھا:
“اس زمین کا مالک کون ہے؟ کوئی یہاں کھیتی کیوں نہیں کرتا؟”
ڈھابے والا ہنس کر بولا:
“بابو، یہاں کون کھیت کرتا ہے! سب دوبئی اور یورپ جانے کی فکر میں ہیں۔ یہاں کام نہیں کرتے، لیکن باہر جا کر یہی لوگ کھیتوں میں مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ زمین تو پانی کی گزرگاہ جسے بنہاں کہتے ہیں ، برسوں سے کسی نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ ہم سے جو ہوسکا ہم نے بھی پردیس جانے کی کوشش کی، مگر پیسے نہ ہوئے۔ یہاں تو بیکاری ہی بیکاری ہے!”
مسافر نے سچ پہچان لیا:
اس نے اس وقت سوچا اصل بنجر زمین مٹی کی نہیں، نوجوانوں کے ذہنوں کی ہے۔
زرخیز زمین سامنے پڑی ہے، مگر آنکھیں پردیس کی چمک میں کھوئی ہوئی ہیں۔ کیونکہ جس ماحول معاشرے میں انسان بنانے پر توجہ نہ ہو بلکہ کار ، کوٹھی اور جھوٹی اناؤں کی جنگی دوڑ ہو وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے خطے کے باسی ایک ہی غلطی کرتے ہیں:
جو چیز ان کے پاس ہوتی ہے، اس کی قدر نہیں کرتے۔
جو سامنے ہوتا ہے، اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جو قابلِ استعمال ہوتا ہے، اسے چھوڑ کر دور دراز کی امیدوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
نظر صرف دیکھنے سے نہیں کھلتی، ادراک و آگہی نے کھولنی ہوتی ہے۔
- بعض کے سامنے قینچی ہوتی ہے مگر وہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔
- بعض کے قدموں تلے زمین سونا دیتی ہے، مگر وہ ہجرت کو زندگی سمجھتے ہیں۔
- بعض کے پاس فرصت، صحت، وقت، گھر، رشتے، سکون! سب کچھ ہوتا ہے، مگر وہ ان کا لطف نہیں اٹھاتے۔
اصل مسئلہ کمی نہیں بلکہ نظر نہ ہونے کی کمی ہے۔ اب اس کو ڈھابے والے نے بتایا کہ فلاں فلاں نوجوان مالک خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نے پہلے تو ان کا مستقبل کا منصوبہ پوچھا تو پتہ چلا وہ سب واقعی یورپ کے علاوہ کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اس نے ان کو زمین ٹھیکہ پر لینے کی پیش کش کر دی۔ اب لڑکے پہلے تو ہنسے پھر اس کو بیوقوف سمجھ کر زمینیں تیس تیس سال کے ٹھیکے پر اونے پونے داموں دینے پر آمادہ ہو گیے۔ اور پھر اس شخص نے ان کے گھر والوں سے بات کرنے کا کہا اور دو دن بعد کا وقت دے کر چلا گیا تاکہ پیسوں کا بندوبست کر سکے۔
اس کی اس آفر کو گاؤں بلکہ ارد گرد کے گاؤں والوں نے نعمت سمجھا کہ بیکار پڑی زمین جس پر فصلوں کو بارش سے آنے والے پانی سے نقصان ہونے کا تجربہ سب کو ہو چکا تھا۔ انہیں ایک موقع میسر آیا کہ پیسے مفت میں ہاتھ آ رہے تھے بعض نے فورا سے پہلے بچوں کے لیے ایجنٹوں سے بات بھی کرنی شروع کر دی۔
دو دن بعد وہ بندہ اپنے دو تین نوجوانون کے ساتھ تھیلا بھر کے پیسوں کا لایا اور ایک نوجوان وکیل بھی اپنے علاقے سے لے آیا تھا۔ سب مقررہ وقت پر سڑک کنارے اسی ڈھابے کے برگد کے درخت کے نیچے بیٹھے جہاں گاؤں کے اسپین ، اٹلی اور یورپ جانے کے متمنی جوانوں نے خوب کرسیاں گھروں سے لا کر اور دریاں بچھا کر انتظام کر رکھا تھا۔
پھر کیا تھا وکیل نے ضرروی جو معاہدے کی شرائط پڑھ کر سنائیں اور زور دار آواز میں بتایا کہ زمین گاؤں والوں کی رہے گی مگر ٹھیکہ اگلے تیس سال ہو رہا تھا۔ پھر کیا تھا سب کے چہروں پر مسکراہٹ یعنی اپنی ہوشیاری اور اس معاہدہ کرنے والے کی بیوقوفی گردانتے ایسے انگوٹھے لگاۓ اور بقلم خود کے دستخط کیے جیسے الیکشن میں ووٹ ڈالنے والا خوشی اور جوش میں “پہلے فارغ” ہونے کے بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کو انجام کی خبر نہیں ہوتی بس نشہ کہ امیدوار چوہدری یا وڈیرے نے اس کے گھر آکر پانچ سال میں ایک دفعہ سلام کرکے حال احوال پوچھا ہوتا ہے۔
جس کو پھر رقم ملتی وہ گھر کو نکل جاتا یوں مجمع کم ہو کر مہمانوں تک باقی رہ گیا۔ انہوں نے اس دن وہیں ڈھابے پر کھانا کھایا جس کے بعد چاۓ پیتے وکیل نے شمار کرکے بتایا کہ تین مربع زمین ان کے ٹھیکے میں آ چکی تھی۔ پھر وہ وہاں سے چلے گئے۔
ٹھیک ایک ہفتہ کے بعد وہ بندہ ٹرک بھر کر اپنے ساتھ مزدور لایا، کانٹے دار تار لگا کر حد بندی کی ، پانی چونکہ بہت ہی پانچ چھ فٹ کی گہرائی پر موجود تھا کیونکہ یہاں سے بارش کا پانی پچھلے سارے علاقوں کا پانی لے کر گزر کر دریا میں گرتا تھا۔ انہوں نے وہاں مچانیں بنا کر اس پر وقفے وقفے سے پانی نکالنے والی موٹرز لگا دیں ویسے ہی قریب قریب مزدوروں کی رہائش گاہیں بنا دیں۔
مقامی ٹریکٹر کراۓ پر لے کر ہل چلایا اور اس میں سبزیاں کاشت کر دیں۔ یہ منظر دور سے گاؤں کے لڑکے جو کھیلیں کھیلتے تھے تجسس سے بیٹھے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ اگلے تین مہینے بعد وہاں سے ٹرکوں میں بھر کر سبزیاں اور دوسری سواۓ بڑی فصلوں کے باقی فصلات منڈیوں میں جا رہی تھی۔ اب لڑکوں کو احساس ہوا کہ نہ انہوں نے کبھی اس بیکار زمین کے بارے میں سوچا تھا کہ اتنی زرخیز اور بار آور ہو گی۔
اس دانشمند آدمی نے ایک رات وہیں ویرانے میں زمین پر گاؤں کے لڑکوں کو دعوت دی ، بکرے کاۓ اور آک کا الاؤ لگا کر اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوۓ کہا،
“جوانوں! ٹھیکہ ہونے، سبزیاں کاشت کرنے اور منڈیوں میں بیچنے میں اگر چار مہینے لگے ہیں تو بتاؤ، کیا اس دوران بارش ہوئی؟”
سب نوجوان، ایک دوسرے کو حیرانی کے ساتھ دیکھ کر بولے “نہیں جناب، کوئی بارش نہیں ہوئی!”
اب اس دانشمند نے مسکراتے ہوۓ سوال کیا۔ ” آپ کو اندازہ ہے کہ ہم نے ٹھیکہ پر اٹھنے والی ساری رقوم اور بعد میں انتظام و کاشت پر آنے والے تمام اخراجات نکال (منہا) کرکے بھی آٹھ لاکھ روپیہ پہلی کوشش سے کمایا ہے۔ اور سوچوں اگلی ساری تیس سال کی مدت میں کتنا منافع بخش رہے گا۔ ”
مقامی نوجوان ایک دوسرے کو شرمندہ سے ہو کر ماتھوں میں پشیمانی کے تیور لیے دیکھ رہے تھے۔
دانشمند آدمی نے پھر سے ان نوجوانوں کو ایک آفر کر دی کہ اگر وہ سب بجاۓ کھیل تماشے میں وقت ضائع کرنے کے اس کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے ارادہ کریں تو وہ انہیں اپنے ساتھ لاۓ مزدوروں سے زیادہ مزدوری دے گا۔ یوں وہیں بیٹھے اس نے پچیس تیس لڑکوں سے معاہدے پر دستخط کرا لیے۔
مقامی لڑکے اس کمائی کے احساس کو لے کر خوشی خوشی لوٹے کیونکہ یہ رقوم انہیں ہر ہفتہ کو ملنے کا وعدہ بھی تھا جس سے ان کی پریشانیاں کم ہوتی محسوس ہوئیں۔
جب مقامی لوگ رخصت ہو گیے اور اس نے اپنے بھانجوں بھتیجوں کو بیٹھے خوش گپیاں اور انہیں خاص انعامی رقوم دیں تو وہ بہت خوش تھے کیونکہ وہ بھی بیکار وقت ضائع کرتے رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے اعتراض کیا کہ جب وہ اپنے ساتھ دس پندرہ مزدور لاۓ ہیں تو مقامی لوگ کیوں؟
دانشمند نے جواب دیا ” تم میں سے کسی نے شکایت کی تھی کہ علاقے کے جانور اس طرف آکر سبزیاں چر جاتے تھے اور کہیں کچھ چوری کا بھی احساس ہوتا تھا کہ مقامی لوگ ہی اس میں ملوث تھے۔”
اس نے مزید کہا کہ آیندہ ہمیں چوکیداری نہیں کرنی پڑے گی، ممکنہ ہے پشیمانی اور حسد کی وجہ سے کچھ لوگ جانوروں کو اس طرف ہانک دیتے ہوں گے، جب ان پچیس تیس گھروں میں ہر روز مفت میں سبزی جاۓ گی تو چوری کا ڈر بھی نہیں رہے گا۔ دوسرا جن مزدوروں کو ہم لاۓ ہیں انہیں ان پر نگران مقرر کرکے ان کی تنخواہ میں اضافہ کرکے پیداوار کو اور بڑھا کر منافع زیادہ حاصل کرنے لگیں گے۔
ایک مقامی ڈاکٹر کے ہاں باری کے انتظار میں بیٹھے مریضوں میں تہہ بند اور عام سے نظر آنے والے ایک شخص کی طرف اشارہ کرکے میرے عزیز نے میرے کان میں بات کی۔ میری توجہ پڑی تو وہ ایک زراعت کا معلوماتی کتابچہ ہی پڑھ رہا تھا۔ میں فورا سے اُٹھا اور اجازت مانگ کر بات کی اجازت چاہی تو اس نے کمالِ محبت سے جگہ بنا کر ساتھ بٹھا لیا۔ جب انہیں بتایا کہ میں نے سن رکھا تھا مگر اب پتہ چلا کہ وہ جناب ہیں تو خوشی ہوئی اس لیے سلام و تہنیت کے لیے آ گیا۔ وہ بھی خوش ہوۓ اور مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کرتا ہوں تو جب میں نے اپنے بارے میں بتایا کہ اکنامکس ایڈوائیزری کرتا ہوں تو کچھ باتیں سوالوں کی صورت پوچھنے لگے۔ جب میں نے جواب دیے تو وہ پھر سے ایک کامیاب کہانی سنانے لگے جس کی وجہ سے انہوں نے بعد میں مذکورہ معاہدات کرے۔
وہ اپنے گاؤں جاتے نہر کے کنارے سفر کرتے تھے جہاں حکومت کی برلبِ سڑک میلوں کے حساب سے زمین فارغ پڑی تھی۔ ایک دن انہوں نے جب سوچا تو جا کر محکمہ انہار سے ٹھیکہ پر پانچ کلومیٹر تک زمین لے کر آٹھ دس مزدور رکھ کر انہیں ایک گدھا گاڑی لے کر دے دی۔ دس پانی کے موبائل پمپ انجنز لے کر دے دیے جو وقفے وقفے اور دنوں کی باری سے جگہ بدل کر پودوں کو پانی لگاتے رہتے۔ اس کے لیے انہوں نے حکومت سے ہزاروں مفت اور کچھ مقامی نرسریوں سے خاص تیزی سے بڑھنے والے پودے خرید کر لگوا دیے۔
ہنس کر بتانے لگے کہ ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ مختلف کارخانوں والوں نے رابطہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ پیشگی رقم کے عوض خریدنا چاہتے تھے۔ یوں انہوں نے ان پودوں کو بیچ کر اگلی زمین ٹھیکہ پر لینی شروع کردی جو میلوں تک جا پہنچی تھی۔ یوں وہ پہلے والے مزدوروں کو بھی باقی اخراجات سمیت انہی کارخانوں کے پے رول پر منتقل کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھر بیٹھے ایک سب کو نظر آنے والا موقع بھی اوجھل ہی تھا بس ایک لمحہ تھا کہ خیال ذہن میں آیا اور انہوں نے ارادہ کر لیا یوں ان کے ہاں خوشحالی اور دولت کی ریل پیل ہو گئی تھی۔
گاؤں کے لڑکے ڈنکی مار کر یا بن کر سپین جارہے تھے تو دنوں کے بعد خبر ملی کہ جوان جانیں ضائع ہو گئیں تھی اور جو لوٹ کر واپس آۓ تھے ان کے بعض اعضا ناکارہ ہو چکے تھے۔ لاکھوں لگا کر بھی موت اور بیکاری نصیب بنی تھی ان نوجوانوں کی! شاید یہ بھی سامنے ہوتے ہوۓ نظر نہیں آتا ہے!
میں تاریخی ناول لکھنا چاہ رہا تھا کیونکہ اس کہانی میرے ذہن میں خیالی جنگ کی صورت تنگ کرنے لگی تو میں نے قرطاس پر اتار دی لیکن عنوان سوچ نہیں تھا۔ لیکن کمرے میز پر پڑے ایک نمک کے لیمپ پر نظر پڑتی رہتی تھی۔ مگر وہی آنکھ سے اوجھل! ایک رات خواب میں اس لیمپ کو دیکھا تو اٹھتے سیدھی نظر اس پر گیی تو عنوان مل گیا۔ جو انشاءاللہ امید ہے ہر پڑھنے والے کو پسند آۓ گا کیونکہ اس میں کچھ مخصوص معاشرتی اور طبقاتی موضوعات پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔
خیر جبکہ ہم اپنی ضرورت کے جواب کے لیے دور دور تک تلاش کر سکتے ہیں، کبھی کبھی وہ بالکل ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے۔ جیسا میں تلاش کر رہا تھا کیا مجھے ایسا ہی عنوان مل گیا تھا۔ زندگی کوئی معمہ نہیں ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ہے، بلکہ یہ ایک کھیل ہے جسے کھیلنا ہے۔ ضرورت سے زیادہ توانائی شکار اور کھودنے میں خرچ کرنے کے بجائے، کبھی کبھی بہتر یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اسے لے لیں اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ بہترین حل سب سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں محنت کرنی چاہیے اور اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی چاہیے جو ہم چاہتے ہیں۔ لیکن اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے: بزرگوں اور صوفیا کو دیکھیں تو سب سے سادہ جواب وہ ہے جو بہترین کام کرے گا۔ خدا چھپن چھپائی نہیں کھیلتا۔ سچائی سادہ ہے، یہ واضح ہے، اور یہ کام کرتی ہے۔
اپنی دنیا میں سادہ چیزوں کو برکت دیجیے۔ اپنے دوستوں کی ان معمولی تحفوں کے لیے تعریف کریں جو وہ آپ کو دیتے ہیں۔ جو آپ کے پاس ہے اسے بدلنے کے لیے تلاش کرنے کے بجائے، ان نعمتوں و تحفوں کو مزید مکمل طور پر استعمال کرنے کے طریقوں کو دیکھیں جو آپ کو پہلے سے دیے گئے ہیں۔ آپ پہلے سے ہی امیر ہیں در بدر ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
زرا توجہ دیں مراقبہ کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ:
ہمیں وہ خوبی، نعمت اور نیکی (اچھائی) دکھائے جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔
فہم و یقین عطا کرے تاکہ ہمیں جس ہر چیز کی ضرورت ہے وہ ٹھیک اور اس کی رضا کے وقت پر کامل طریقے سے ہمارے پاس موجود ہو۔
نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ : ہم آنکھیں کھولیں : جو چاہیے وہیں رکھا ہے
زندگی کے بیشتر مسائل کے حل، مواقع اور خوشیاں،
دور نہیں ہوتیں بلکہ ہماری آنکھوں کے بالکل سامنے ہوتی ہیں۔
بس نظر کو ٹھکانے پر لانا ہوتی ہے،
دل کو حاضر کرنا ہوتا ہے،
اور ادراک کو جگانا ہوتا ہے۔
جب انسان دیکھنا سیکھ جائے،
تو اسے یہی معلوم ہوتا ہے کہ:
نعمتیں کبھی دور نہیں تھیں!
ہم ہی انہیں دیکھنے سے غافل تھے۔
—-
شکریہ۔۔۔۔
تحریر: محمد افراہیم بٹ۔ دوبئی ، الامارات
![]()