Kheyal Darya

A mound of thoughts

حکایاتِ افراہیم

عنوان : ” فائیڈو اور فقیر: محبت، وفاداری اور خودی کا صوفیانہ راز” فائیڈو (Fido) درست تھا! امریکی اور انگریزی بولنے والے معاشروں میں فائیڈو کے درست ہونے کا بہت زکر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اپنے آپ بننے کا عزم کرو، اور جان لو کہ جو خود کو پاتا ہے، وہ راحت میں رہتا ہے۔ جب اس کو اور سمجھو تو پتہ چلا کہ وہ شخص بنو، جیسا تمہارا کتا تمہیں سمجھتا ہے۔ اُن کے ہاں جوانی اور بڑھاپے میں انسانوں سے زیادہ جانوروں مثلاً کتوں اور بلیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے۔ بہت پہلے جب پال ٹاک کا زمانہ تھا تو وہاں کے لوگوں سے جب آن لائن بات چیت ہوتی تو زیادہ تر ان جانوروں کو ہی اپنی تنہائی اور زندگی کا ساتھی بتاتے تھے۔ بہت سے لوگ یہ بتاتے کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ تعلق زندگی کے سب سے زیادہ مدد گار، مخلص اور غیر مشروط محبت بھرے تعلقات میں سے ایک ہے۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو ہمیں کتوں سے ملتی ہے جو انسانوں (ان کے ہاں شاید) سے نہیں ملتی؟ اُن میں بہت اعلی تعلیم یافتہ لوگ بتاتے کہ کتے ہمیں اس لیے چاہتے ہیں جو ہم ہیں۔ وہ ہم سے پیچیدہ توقعات یا مطالبات نہیں رکھتے۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بغیر کسی روک ٹوک کے محبت ظاہر کرتے ہیں، ایک چھوٹی سی تھپکی یا توجہ سے بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ سچے، وقف اور لمحے میں جینے والے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہم اپنے بارے میں اکثر ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو عدم محبت، بےوفا اور ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔ ہم اکثر خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر بے صبری دکھاتے ہیں، اور خود کو ہی نیچا دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید ہم اپنے کتوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں — کیونکہ وہ ہمیں ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ الحمد للہ ہم نے جن اساتذہ سے پڑھا تھا وہ ہمیشہ ہم میں بھلائی دیکھتے تھے ۔ میرے سکول میں استاد محترم جناب منیر احمد خلیلی صاحب حفظ اللہ نے میرا جنرل نالج اور شوق دیکھ کر میرا نام حضرت اقبال رح کی صد سالہ تقریبات میں ہونے والے اقبالیات پر مقابلہ میں شرکت کے لیے تجویز کردیا۔ شاید میں اس وقت لا ابالی پن میں اپنے اندر کی اس قدر اور صلاحیت سے نابلد تھا۔ اس مقابلے میں جان بوجھ کر نا گیا جہاں اقبال رح کے بارے میں پر طالب علم سے دس دس سوال پوچھے جاتے تھے ۔ میں بوجہ وہی عدم دلچسپی، اپنے آپ کو ایویں سمجھ کر شریک نہ ہوا۔ شاید اس کی وجہ میرا شرمیلا پن بھی تھا کیونکہ دوبئی کے اس پاکستان اسلامیہ اسکول کی سائنس لیبارٹری میں ہماری ایک خاتون ٹیچر کے سات مہمان خواتین بھی تھیں ۔ میں نے برآمدے سے ایک دو بار نام بلانے پر گھیڑے مارے لیکن جھجک کی وجہ سے شامل نہ ہوا۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد جب محترم منیر صاحب اس قدر غصے میں تھے جبکہ میں بھی کَن آکھیوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ چونکہ کرکٹ اس وقت بھی کھیلتے تھے لہذا دل ایسے سے ہی دھڑک رہا تھا جیسے 20/20 میچ میں فیلڈرز کی پابندی کی وجہ سے باؤلرز کا دھڑکتا ہے۔ لیکن محترم منیر صاحب کو میرے ایک دوست کرکٹ کھلاڑی جو سیٹ ہونے کے بعد بہت لمبے لمبے چوکے اور چھکے لگایا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ سیٹ ہو جانے کے بعد اکثر بیٹنگ کرتے ہوۓ کہتے “بس یار! فکر نہیں اب گیند مٹی کے گھڑے کے برابر دکھنے لگی ہے۔” ہر کوئی اپنے ماحول اور نسبت سے مثال دیتا ہے وہ گھڑے کی بات اس لیے کرتے تھے کیونکہ کا تعلق شہرِ گجرات سے تھا رام تلائی بازار سے تھا جہاں اور سرکلر روڈ پر برتنوں کی دکانیں تھی۔ میں نے اپنی تکلیف اور احساس ندامت کی بات کو شوگر کوٹ کرنے کے لیے کرکٹ کی بات تحریر کری ہے۔ کیونکہ منیر صاحب کی عقابی نظروں اور ہاتھ میں امام بخش ہونے کی وجہ سے خیر نہیں کا پورا ادراک تھا۔ شاید عقابی نظروں میں باقی کلاس میں ہم جماعتوں سے گیارہ گنا زیادہ نمایاں نظر آ رہا تھا یا دوسری مثال اُن کو گھڑا دکھائی دے رہا ہوں گا۔ چونکہ انہوں نے آتے کوئی بات نہیں کی اپنی کتابیں میز پر رکھیں اور ہمارا میرا، عبدالرحمن اور بابر کا بنچ ان کی میز کے عین سامنے ملحق تھا۔ اُن کے آ جانے پر احترام سے سب نے کھڑے ہو کر وعلیکم السلام سے جواب دیا اور آپ نے سب کو بیٹھنے کا حکم دیا لیکن میری شامت آئی! مجھے بیٹھنے کا نہیں میدان میں آنے کو کہا ، پھر چاک سے انہوں نے وہ سارے دس سوالات ایک ایک کرکے لکھنے شروع کیے اور مجھ سے جوابات لیتے جاتے۔ جب سب سوالوں کے جوابات درست بتاۓ تو انہوں نے شاباش کی بجاۓ ڈنڈا (بلا) نکال کر غصہ بھری دھلائی شروع کردی اور ساتھ اس بات کا اظہار کرتے کہ تمھارا وظیفہ لگ جانا تھا ، کیونکہ انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی میرا نام دیا تھا۔ پھر انہوں نے پوری تسلی کرکے مجھے بٹھایا اور ہم تو تھے ہی مجرم لیکن تب جانا کہ استاد کا غصہ دراصل محبت کی ایک سخت شکل تھی۔ بقول مجروح: مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح میرا تعلیمی اداروں میں نصیب بہت اچھا تھا کہ عظیم لوگوں نے سرپرستی کی مگر ہمیں تھے جو ہمیشہ نالائق و نا بیدار رہے۔ اللہ ان سب نیک روحوں کو انعامات سے نوازے اور منیر صاحب کو صحت کاملہ عطا کرے۔ امین یہ بات ان اہلِ کرم کی شفقت اور خوبصورت یاد دلاتی ہے۔ کئی برسوں تک میں ان کے پاس اپنے خوف، احساسِ جرم اور کم مائیگی کے ساتھ رہا، لیکن وہ ہمیشہ مجھے سپورٹ کرتے، درگزر سے کام لیتے اور اپنی دعاؤں سے نوازتے۔ الحمد للہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ آخرکار مجھے احساس ہوا کہ میرے اور اُن کے میرے بارے میں نظریات اتنے مختلف تھے کہ ہم دونوں میں سے ایک غلط ہونا ہی تھا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ وہ درست ہیں۔ اگر ایک شفیق استاد یا باپ یا کوئی بھی مہربان آپ کے اندر کوئی صلاحیت اور خوبی دیکھ کر آپ کو اس کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے تو اسے بڑھانا چاہیے ! موٹ مست دیہاتی بھینس کی طرح نہیں جو اپنی لے میں ہی چلتی و چرتی رہتی ہے اور شام میں بھوکی گھر لوٹ جاتی ہے۔ ہم سب بھی وہ بن سکتے ہیں جو قدرت نے ہمارے اندر رکھا ہے بس اس کو جوہری کی طرح کٹھالی سے گزار کر خالص جوہر کو نکالنا ہے۔ میاں محمد بخش رح نے بتایا کہ: ریت وجود تیرے وچ سونا ایویں نظر نہ آوے ہنجو دا گھت پانی لائیے۔۔ ریت مٹی رڑ جاوے پارہ گھت محبت والا۔۔۔۔۔۔۔ گولی اک بناوے خاک رلے وچ خاک محمد سونا قیمت پاوے ابتدا میں میں نے فائیڈو کو زکر کیا تھا مگر ڈانگ سوٹوں والوں کے تراہ کی وجہ سے بات کو زرا طوالت دینا پڑھی۔ “فائیڈو” دراصل کسی خاص جانور یا شخص کا نام نہیں — بلکہ ایک علامتی نام ہے جو کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں “Fido” کا مطلب ہوتا ہے “وفادار” یا “Faithful”، اور یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ “Fidelis” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ایماندار، وفادار، سچا۔ اس لیے انگریزی بولنے والے اکثر جب کسی مثال یا کہانی میں “Fido” کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک وفادار، پیار کرنے والا، غیر مشروط محبت دینے والا کتا ہوتا ہے۔ یعنی “Fido” ایک عام کتے کا نام ہے، جیسے اردو میں کوئی کہے “ٹومی” یا “شیرو” — مگر یہاں یہ صرف علامت ہے۔ اس تحریر میں “Fido” اس خیال کی نمائندگی کرتا ہے کہ: اگر ہم خود کو ویسا دیکھیں جیسے ہمارا کتا ہمیں دیکھتا ہے ، بغیر تنقید، بغیر شرط، صرف محبت کے ساتھ ، تو ہم زیادہ خوش، پُرامن، اور اصل خود سے قریب ہو جائیں گے۔ یعنی “فائیڈو” اُن معاشروں میں دراصل محبت، خلوص اور قبولیت کا استعارہ ہے. ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو مالک کا کتا سمجھتا ہے مالک ویسا ہی ہوتا ہے۔ ان کے بقول شاید فائیڈو مالک کو اس کی اپنی نظر سے زیادہ صاف نظر سے دیکھتا ہو۔ شاید یہ نکتہ ہمیں بھی یہ جاننے میں مدد دے کہ ہم انفرادی طور پر کتنا محبت کے لائق ہیں، تاکہ میں دنیا میں خیر و وفا کی روشنی پھیلا سکوں۔ وہی ابتدائی الفاظ تھے جنہیں پڑھ کر لکھنے پر آمادگی ہوئی کیونکہ بات میرے دل میں اتر گئی — جیسے کسی نے ایک سادہ سا جملہ بول کر سچائی کا دروازہ کھول دیا ہو۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ رشتہ زندگی کے سب سے مخلص، پُر اعتماد اور بے لوث رشتوں میں سے ایک ہے۔ آخر ایسا کیا ہے جو ہمیں کتوں سے ملتا ہے، مگر انسانوں سے نہیں؟ کتے ہم سے محبت کرتے ہیں، بس اس لیے کہ ہم “ہم” ہیں۔ نہ وہ ہم سے کوئی پیچیدہ توقع رکھتے ہیں، نہ کوئی شرط ۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں، دم ہلا کر اپنی محبت کا اعلان کرتے ہیں۔ انہیں بس ایک لمس، ایک مسکراہٹ یا سر پر ہلکی سی تھپکی چاہیے ہوتی ہے۔ اور وہ اس لمحے میں خوشی سے جیتے ہیں۔ وہ مخلص ہیں، سچے ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ ہمیں قبول کرتے ہیں جیسے ہم ہیں۔ اس کے برعکس، ہم انسان اپنے بارے میں اکثر ایسا سوچتے ہیں جو محبت کے خلاف ہوتا ہے۔ ہم خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر سختی سے جج کرتے ہیں، اور اپنی قدر بھول جاتے ہیں۔ ہم خود کے ساتھ ویسے پیش نہیں آتے جیسے ہمارا کتا ہمارے ساتھ پیش آتا ہے ۔ شاید اسی لیے ہم اپنے کتوں سے اتنی محبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں وہ بننے کی یاد دلاتے ہیں جو ہم اصل میں ہیں: قابلِ محبت، اچھے، اور قیمتی ہیں۔ میرا ایک جاننے والا دوست ہمیشہ حالات سے گلہ شکوہ کرتا رہتا ہے حالانکہ معاملہ سمجھ کا ہے کہ وہ بھی وہ بن سکتا ہے، جیسا اس کا کتا اسے سمجھتا ہے۔ اگرچہ میں نے کتے اور اس کی صفات پر پہلے لکھا تھا اور اسلامی نقطہ نظر سے معاملہ بیان کیا تھا۔ یہاں “فائیڈو” کی بات ہو رہی ہے تو دیکھیں صوفیا نے اس بارے میں کیا کہا ہے۔ جیسے بابا بلہے شاہ نے کہا: راتیں جاگیں کریں عبادت راتیں جاگن کتے تیتھوں اتے بھونکنوں بند مول نا ہندے جا روڑیں تے ستے تیتھوں اتے خسم آپنے دا در نا چھڈدے بھاویں وجن جتے تیتھوں اتے بلھےؔ شاہ کوئی رکھت وہاج لے نہیں تے بازی لے گئے کتے تیتھوں اتے — پھر بقول میاں محمد بخش رح جس دل اندر عشق نا رچیا ، کتے اس توں چنگے مالک دے گھر راکھی کردے صابر بکھے ننگے اس کی مزید ترغیب و تمثیل یوں کی کہ صوفیا کے بقول “بے شرط محبت” محبت کا ہونا اعلی وصف ہے۔ صوفیاء کرام نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ اللہ اپنے بندوں سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ اُس کی مخلوق ہیں، نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے۔ اسی طرح، وہ بندہ جو اللہ سے محبت کرتا ہے، اُس کی محبت بھی شرطوں سے آزاد ہوتی ہے۔ یہی کیفیت “فائیڈو” جیسی بے ساختہ، خالص محبت ہے۔ – رابعہ بصریہ (رحمہا اللہ) نے فرمایا تھا: “میں اللہ کی عبادت نہ جنت کی طلب میں کرتی ہوں، نہ دوزخ کے خوف سے، بلکہ اس لیے کہ وہ عبادت کے لائق ہے۔” یہ وہی بے غرض محبت ہے جیسے ایک وفادار جانور اپنے مالک سے محبت کرتا ہے، بغیر کسی لالچ، بغیر کسی شکایت کے۔ اسلامی صوفی ادب میں “کتا” اکثر اخلاص، وفاداری، عاجزی اور نفس کے فنا ہونے کی علامت کے طور پر آتا ہے۔ حضرت با یزید بسطامیؒ نے فرمایا: ” میں نے ایک کتے سے علم حاصل کیا، وہ جہاں بھی جاتا، اگر اس کو دھتکار دیا جاتا، تو وہ خاموشی سے چلا جاتا۔ میں نے اس سے صبر، قناعت اور عاجزی سیکھی۔” شیخ سعدیؒ اپنی کتاب گلستان میں لکھتے ہیں: “اگر کوئی شخص اپنے رب کے در پر کتے کی طرح عاجز اور وفادار ہو جائے، تو اس کے لیے بھی درِ رحمت کھل جاتا ہے۔” اپنی خودی، عزتِ نفس یا خود کو قبول کرنے کا سبق بھی ملتا ہے۔ صوفیانہ پیغام ہے جو کہتا ہے: “خود کو اُس نظر سے دیکھ، جس نظر سے تیرا خالق تجھے دیکھتا ہے۔” قرآن میں اللہ فرماتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ “اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” (سورہ الاسراء 17:70) صوفیا اس آیت کو یوں سمجھاتے ہیں کہ: انسان اگر اپنے اندر اللہ کی عطا کردہ عزت، محبت اور نور کو پہچان لے، تو خود سے نفرت اور احساسِ کمتری ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے “سچے نفس” سے ملتا ہے۔ وہی “خود” جسے اللہ نے فطرتاً خوبصورت اور پاک بنایا۔ ایک خوبصورت صوفیانہ تشبیہ کہ: “اللہ کا بندہ اُس کتے کی مانند ہو جائے جو اپنے مالک کے در سے جدا نہیں ہوتا۔ اگر مالک اسے مارے بھی، وہ بھاگتا نہیں؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اسی در پر اس کی بھوک مٹے گی۔” یہ تشبیہ ظاہراً سادہ لگتی ہے، لیکن در حقیقت محبت، وفاداری، صبر، اور فنا کی اعلیٰ ترین تعلیم ہے۔ آخر میں اتنا کہ مسلم صوفیاء کا پیغام فائیڈو کے پیغام سے ہم آہنگ ہے: • خود کو محبت اور کرم کے لائق سمجھو۔ • اپنی اصل فطرت (نورِ الٰہی) کو پہچانو۔ • بے غرض محبت کرو، جیسے اللہ تم سے کرتا ہے۔ • وفادار رہو، عاجز رہو، اور کسی کے دل میں زخم نہ دو۔ ————————— جاری ہے۔۔۔ شکریہ ۔۔۔ اِفری عنوان : ” فائیڈو اور فقیر: محبت، وفاداری اور خودی کا صوفیانہ راز” قسط 2 درِ یار کا کتا کہتے ہیں، ایک فقیر نے ساری دنیا گھوم لی مگر سکون نہ پایا۔ آخر ایک دن وہ کسی دروازے کے باہر بیٹھا ، جہاں ایک کتا روز آتا، در پر بیٹھتا، اور مالک کے فاضل لقمے کا انتظار کرتا۔ اگر اسے ہڈی ملتی تو دم ہلاتا، اگر پتھر لگتا تو خاموشی سے پھر وہیں لوٹ آتا۔ فقیر نے کئی دن یہ منظر دیکھا۔ پھر ایک دن اُس نے دل میں کہا: “اے رب! میں بھی اسی طرح وفادار بن جاؤں! تیری دہلیز سے ہٹوں نہیں، چاہے میری دعا قبول ہو یا رد۔” اسی لمحے اُس کے اندر سے ایک ندا (آواز) اٹھی: “یہی وفا ہے، یہی محبت ہے ! کہ بندہ در سے نہ ہٹے، خواہ کچھ بھی ہو جائے۔” فقیر مسکرایا۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بولا: “میں تیرا کتا بننے پر راضی ہوں، کہ تیری رحمت کا ایک ٹکڑا بھی پوری دنیا کی بادشاہی سے بہتر ہے۔” صوفیا نے کہا: “جو اپنے رب کے در پر کتے کی طرح بیٹھنا سیکھ گیا، وہ بادشاہوں کے تخت پر بیٹھنے کے لائق ہو گیا۔” کیونکہ بندگی دراصل وفا کا دوسرا نام ہے۔ اور وفادار وہی ہے، جو مالک کے در سے ہٹتا نہیں ! نہ نعمت میں، نہ آزمائش میں۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بہتر بندہ اور اپنا غلام بناۓ جو صرف اسی کے در کا ہو۔ صبر سے نوازے، چاہے کتنی تکالیف و امتحان پیش آئیں۔ ہم ہر حال اس کے وفادار اور شکر گزار رہیں۔ اللہ وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما ۓ رکھے اور صرف اس کی محبت سے روشن ہو۔ امین —- شکریہ اِفری

 

عنوان :  ” فائیڈو اور فقیر: محبت، وفاداری اور خودی کا صوفیانہ راز

فائیڈو (Fido) درست تھا!  امریکی  اور انگریزی بولنے والے معاشروں میں فائیڈو کے درست ہونے کا بہت زکر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اپنے آپ بننے کا عزم کرو، اور جان لو کہ جو خود کو پاتا ہے، وہ راحت میں رہتا ہے۔ جب اس کو اور سمجھو تو پتہ چلا کہ وہ شخص بنو، جیسا تمہارا کتا تمہیں سمجھتا ہے۔

اُن کے ہاں جوانی اور بڑھاپے میں انسانوں سے زیادہ جانوروں مثلاً کتوں اور بلیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے۔ بہت پہلے جب پال ٹاک کا زمانہ تھا تو وہاں کے لوگوں سے جب آن لائن بات چیت ہوتی تو زیادہ تر ان جانوروں کو ہی اپنی تنہائی اور زندگی کا ساتھی بتاتے تھے۔ بہت سے لوگ یہ بتاتے کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ تعلق زندگی کے سب سے زیادہ مدد گار، مخلص اور غیر مشروط محبت بھرے تعلقات میں سے ایک ہے۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو ہمیں کتوں سے ملتی ہے جو انسانوں (ان کے ہاں شاید) سے نہیں ملتی؟

اُن میں بہت اعلی تعلیم یافتہ لوگ بتاتے کہ کتے ہمیں اس لیے چاہتے ہیں جو ہم ہیں۔ وہ ہم سے پیچیدہ توقعات یا مطالبات نہیں رکھتے۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بغیر کسی روک ٹوک کے محبت ظاہر کرتے ہیں، ایک چھوٹی سی تھپکی یا توجہ سے بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ سچے، وقف اور لمحے میں جینے والے ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس، ہم اپنے بارے میں اکثر ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو عدم محبت،  بےوفا اور ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔ ہم  اکثر خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر بے صبری دکھاتے ہیں، اور خود کو ہی  نیچا دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید ہم اپنے کتوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں — کیونکہ وہ ہمیں ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔

الحمد للہ ہم نے جن  اساتذہ سے پڑھا تھا وہ ہمیشہ ہم  میں بھلائی دیکھتے تھے ۔ میرے سکول میں استاد محترم جناب منیر احمد خلیلی صاحب حفظ اللہ نے میرا جنرل نالج اور شوق دیکھ کر میرا نام حضرت اقبال رح کی صد سالہ تقریبات میں ہونے والے اقبالیات پر مقابلہ میں شرکت کے لیے تجویز کردیا۔  شاید میں اس وقت لا ابالی پن میں اپنے اندر کی اس قدر اور صلاحیت سے نابلد تھا۔ اس مقابلے میں جان بوجھ کر نا گیا جہاں اقبال رح  کے بارے میں پر طالب علم  سے دس دس سوال پوچھے جاتے تھے ۔ میں  بوجہ وہی عدم دلچسپی، اپنے آپ کو ایویں سمجھ کر شریک نہ ہوا۔  شاید اس کی وجہ میرا شرمیلا پن بھی تھا کیونکہ دوبئی کے اس پاکستان اسلامیہ اسکول کی سائنس لیبارٹری میں ہماری ایک خاتون ٹیچر کے سات مہمان خواتین بھی تھیں ۔ میں نے برآمدے سے ایک دو بار نام بلانے پر گھیڑے مارے لیکن جھجک کی وجہ سے شامل نہ ہوا۔

مقابلہ ختم ہونے کے بعد جب محترم منیر صاحب اس قدر غصے میں تھے جبکہ میں بھی کَن آکھیوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ چونکہ کرکٹ اس وقت بھی کھیلتے تھے لہذا دل ایسے سے ہی دھڑک رہا تھا جیسے 20/20   میچ  میں فیلڈرز کی پابندی کی وجہ سے باؤلرز کا دھڑکتا ہے۔  لیکن محترم منیر صاحب کو میرے ایک دوست کرکٹ کھلاڑی جو سیٹ ہونے کے بعد بہت لمبے لمبے چوکے اور چھکے لگایا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ سیٹ ہو جانے کے بعد اکثر بیٹنگ کرتے ہوۓ کہتے “بس یار! فکر نہیں اب گیند مٹی کے گھڑے کے برابر دکھنے لگی ہے۔” ہر کوئی اپنے ماحول اور نسبت سے مثال دیتا ہے وہ گھڑے کی بات اس لیے کرتے تھے کیونکہ کا تعلق شہرِ گجرات سے تھا رام تلائی بازار سے تھا جہاں اور سرکلر روڈ پر برتنوں کی دکانیں تھی۔

میں نے اپنی تکلیف اور احساس ندامت  کی بات کو شوگر کوٹ کرنے کے لیے کرکٹ کی بات تحریر کری ہے۔ کیونکہ منیر صاحب کی عقابی نظروں اور ہاتھ میں امام بخش ہونے کی وجہ سے خیر نہیں کا پورا  ادراک تھا۔ شاید  عقابی نظروں میں باقی کلاس میں ہم جماعتوں سے  گیارہ گنا زیادہ نمایاں نظر آ رہا تھا یا دوسری مثال اُن کو گھڑا دکھائی دے رہا ہوں گا۔ چونکہ انہوں نے آتے کوئی بات نہیں کی اپنی کتابیں میز پر رکھیں اور ہمارا میرا، عبدالرحمن اور بابر کا بنچ ان کی میز کے عین سامنے ملحق تھا۔ اُن کے آ جانے پر احترام سے سب نے کھڑے ہو کر وعلیکم السلام سے جواب دیا اور آپ نے سب کو بیٹھنے کا حکم دیا لیکن میری شامت آئی!
مجھے بیٹھنے کا نہیں میدان میں آنے کو کہا ، پھر چاک سے انہوں نے وہ سارے دس سوالات ایک ایک کرکے  لکھنے شروع کیے اور مجھ سے جوابات لیتے جاتے۔ جب سب سوالوں کے جوابات درست بتاۓ تو انہوں نے شاباش کی بجاۓ ڈنڈا (بلا) نکال کر غصہ بھری دھلائی شروع کردی اور ساتھ اس بات کا اظہار کرتے کہ تمھارا وظیفہ لگ جانا تھا ، کیونکہ انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی میرا نام دیا تھا۔  پھر انہوں نے پوری تسلی کرکے  مجھے بٹھایا اور ہم تو تھے ہی مجرم   لیکن تب جانا کہ استاد کا غصہ دراصل محبت کی ایک سخت شکل تھی۔
بقول مجروح:
مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام

ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

میرا تعلیمی اداروں میں نصیب بہت اچھا تھا کہ عظیم لوگوں نے سرپرستی کی مگر ہمیں تھے جو ہمیشہ نالائق و  نا بیدار رہے۔  اللہ  ان سب نیک روحوں کو انعامات سے نوازے اور  منیر صاحب کو صحت کاملہ عطا کرے۔ امین
یہ بات ان اہلِ کرم کی شفقت اور خوبصورت یاد دلاتی ہے۔ کئی برسوں تک میں ان کے پاس اپنے خوف، احساسِ جرم اور کم مائیگی کے ساتھ رہا، لیکن وہ ہمیشہ مجھے سپورٹ کرتے، درگزر سے کام لیتے اور  اپنی دعاؤں سے نوازتے۔ الحمد للہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ آخرکار مجھے احساس ہوا کہ میرے اور اُن کے میرے بارے میں نظریات اتنے مختلف تھے کہ ہم دونوں میں سے ایک غلط ہونا ہی تھا۔  پھر میں نے فیصلہ کیا کہ وہ درست ہیں۔

اگر ایک شفیق استاد یا باپ یا کوئی بھی مہربان آپ کے اندر کوئی صلاحیت اور خوبی دیکھ کر آپ کو اس کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے تو اسے بڑھانا چاہیے ! موٹ مست دیہاتی بھینس کی طرح نہیں جو اپنی لے میں ہی چلتی و چرتی رہتی ہے  اور شام میں بھوکی گھر لوٹ جاتی ہے۔
ہم سب بھی وہ بن سکتے ہیں جو قدرت نے ہمارے اندر رکھا ہے بس اس کو جوہری کی طرح  کٹھالی سے گزار کر خالص جوہر کو نکالنا ہے۔
میاں محمد بخش رح نے بتایا کہ:
ریت وجود تیرے وچ سونا ایویں نظر نہ آوے

ہنجو دا گھت پانی لائیے۔۔ ریت مٹی رڑ جاوے

پارہ گھت محبت والا۔۔۔۔۔۔۔ گولی اک بناوے

خاک رلے وچ خاک محمد سونا قیمت پاوے

 ابتدا میں میں نے فائیڈو کو زکر کیا تھا مگر ڈانگ سوٹوں والوں کے تراہ کی وجہ سے بات کو زرا طوالت دینا پڑھی۔
فائیڈو دراصل کسی خاص جانور یا شخص کا نام نہیں — بلکہ ایک علامتی نام ہے جو کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں “Fido” کا مطلب ہوتا ہے وفادار” یا “Faithful”، اور یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ “Fidelis” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ایماندار، وفادار، سچا۔

اس لیے انگریزی بولنے والے اکثر جب کسی مثال یا کہانی میں “Fido” کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک وفادار، پیار کرنے والا، غیر مشروط محبت دینے والا کتا ہوتا ہے۔
یعنی “Fido” ایک عام کتے کا نام ہے، جیسے اردو میں کوئی کہے “ٹومی” یا “شیرو” — مگر یہاں یہ صرف علامت ہے۔  اس تحریر میں “Fido” اس خیال کی نمائندگی کرتا ہے کہ:  اگر ہم خود کو ویسا دیکھیں جیسے ہمارا کتا ہمیں دیکھتا ہے ، بغیر تنقید، بغیر شرط، صرف محبت کے ساتھ ، تو ہم زیادہ خوش، پُرامن، اور اصل خود سے قریب ہو جائیں گے۔

یعنی “فائیڈو” اُن معاشروں میں دراصل محبت، خلوص اور قبولیت کا استعارہ ہے. ۔  وہ کہتے ہیں کہ جو مالک کا کتا سمجھتا ہے مالک ویسا ہی ہوتا ہے۔  ان کے بقول شاید فائیڈو مالک کو اس کی اپنی نظر سے زیادہ صاف نظر سے دیکھتا ہو۔ شاید یہ نکتہ ہمیں بھی یہ جاننے میں مدد دے کہ ہم انفرادی طور پر کتنا محبت کے لائق ہیں، تاکہ میں دنیا میں خیر و وفا کی روشنی پھیلا سکوں۔

وہی ابتدائی الفاظ تھے جنہیں پڑھ کر لکھنے پر آمادگی ہوئی کیونکہ بات میرے دل میں اتر گئی — جیسے کسی نے ایک سادہ سا جملہ بول کر سچائی کا دروازہ کھول دیا ہو۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ رشتہ زندگی کے سب سے مخلص، پُر اعتماد اور بے لوث رشتوں میں سے ایک ہے۔  آخر ایسا کیا ہے جو ہمیں کتوں سے ملتا ہے، مگر انسانوں سے نہیں؟
کتے ہم سے محبت کرتے ہیں، بس اس لیے کہ ہم “ہم” ہیں۔
نہ وہ ہم سے کوئی پیچیدہ توقع رکھتے ہیں، نہ کوئی شرط ۔
وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں، دم ہلا کر اپنی محبت کا اعلان کرتے ہیں۔
انہیں بس ایک لمس، ایک مسکراہٹ یا سر پر ہلکی سی تھپکی چاہیے ہوتی ہے۔  اور وہ اس لمحے میں خوشی سے جیتے ہیں۔
وہ مخلص ہیں، سچے ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ ہمیں قبول کرتے ہیں جیسے ہم ہیں۔

اس کے برعکس، ہم انسان اپنے بارے میں اکثر ایسا سوچتے ہیں جو محبت کے خلاف ہوتا ہے۔
ہم خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر سختی سے جج کرتے ہیں، اور اپنی قدر بھول جاتے ہیں۔
ہم خود کے ساتھ ویسے پیش نہیں آتے جیسے ہمارا کتا ہمارے ساتھ پیش آتا ہے ۔ شاید اسی لیے ہم اپنے کتوں سے اتنی محبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں وہ بننے کی یاد دلاتے ہیں جو ہم اصل میں ہیں: قابلِ محبت، اچھے، اور قیمتی ہیں۔

میرا ایک جاننے والا  دوست  ہمیشہ حالات سے گلہ شکوہ کرتا رہتا ہے حالانکہ معاملہ  سمجھ کا ہے کہ وہ بھی وہ بن سکتا ہے،  جیسا  اس کا کتا اسے سمجھتا ہے۔ اگرچہ میں نے کتے اور اس کی صفات پر پہلے لکھا تھا اور اسلامی نقطہ نظر سے معاملہ بیان کیا تھا۔ یہاں  “فائیڈو” کی بات ہو رہی ہے تو دیکھیں صوفیا نے اس بارے میں کیا کہا ہے۔ جیسے بابا بلہے شاہ نے کہا:
راتیں جاگیں کریں عبادت

راتیں جاگن کتے

تیتھوں اتے

بھونکنوں بند مول نا ہندے

جا روڑیں تے ستے

تیتھوں اتے

خسم آپنے دا در نا چھڈدے

بھاویں وجن جتے

تیتھوں اتے

بلھےؔ شاہ کوئی رکھت وہاج لے

نہیں تے بازی لے گئے کتے

تیتھوں اتے

پھر بقول میاں محمد بخش رح

جس دل اندر عشق نا رچیا ، کتے اس توں چنگے

مالک دے گھر راکھی کردے صابر بکھے ننگے

اس کی مزید ترغیب و تمثیل یوں کی کہ صوفیا  کے بقول “بے شرط محبت” محبت کا ہونا اعلی وصف ہے۔ صوفیاء کرام نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ اللہ اپنے بندوں سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ اُس کی مخلوق ہیں،  نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے۔ اسی طرح، وہ بندہ جو اللہ سے محبت کرتا ہے، اُس کی محبت بھی شرطوں سے آزاد ہوتی ہے۔
یہی کیفیت “فائیڈو” جیسی بے ساختہ، خالص محبت ہے۔

رابعہ بصریہ (رحمہا اللہ) نے فرمایا تھا: “میں اللہ کی عبادت نہ جنت کی طلب میں کرتی ہوں، نہ دوزخ کے خوف سے، بلکہ اس لیے کہ وہ عبادت کے لائق ہے۔”

یہ وہی بے غرض محبت ہے جیسے ایک وفادار جانور اپنے مالک سے محبت کرتا ہے، بغیر کسی لالچ، بغیر کسی شکایت کے۔

 

اسلامی صوفی ادب میں “کتا” اکثر اخلاص، وفاداری، عاجزی اور نفس کے فنا ہونے کی علامت کے طور پر آتا ہے۔

حضرت با یزید بسطامیؒ نے فرمایا: ” میں نے ایک کتے سے علم حاصل کیا، وہ جہاں بھی جاتا، اگر اس کو دھتکار دیا جاتا، تو وہ خاموشی سے چلا جاتا۔ میں نے اس سے صبر، قناعت اور عاجزی سیکھی۔”

شیخ سعدیؒ اپنی کتاب گلستان میں لکھتے ہیں: “اگر کوئی شخص اپنے رب کے در پر کتے کی طرح عاجز اور وفادار ہو جائے، تو اس کے لیے بھی درِ رحمت کھل جاتا ہے۔”

 اپنی خودی، عزتِ نفس یا خود کو قبول کرنے کا سبق   بھی ملتا ہے۔ صوفیانہ پیغام ہے جو کہتا ہے: “خود کو اُس نظر سے دیکھ، جس نظر سے تیرا خالق تجھے دیکھتا ہے۔”

قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
“اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” (سورہ الاسراء 17:70)

صوفیا اس آیت کو یوں سمجھاتے ہیں کہ: انسان اگر اپنے اندر اللہ کی عطا کردہ عزت، محبت اور نور کو پہچان لے، تو خود سے نفرت اور احساسِ کمتری ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے “سچے نفس” سے ملتا ہے۔ وہی “خود” جسے اللہ نے فطرتاً خوبصورت اور پاک بنایا۔

ایک خوبصورت صوفیانہ تشبیہ کہ: “اللہ کا بندہ اُس کتے کی مانند ہو جائے جو اپنے مالک کے در سے جدا نہیں ہوتا۔ اگر مالک اسے مارے بھی، وہ بھاگتا نہیں؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اسی در پر اس کی بھوک مٹے گی۔”

یہ تشبیہ ظاہراً سادہ لگتی ہے، لیکن در حقیقت محبت، وفاداری، صبر، اور فنا کی اعلیٰ ترین تعلیم ہے۔ آخر میں اتنا کہ مسلم صوفیاء کا پیغام فائیڈو کے پیغام سے ہم آہنگ ہے:

  • خود کو محبت اور کرم کے لائق سمجھو۔
  • اپنی اصل فطرت (نورِ الٰہی) کو پہچانو۔
  • بے غرض محبت کرو،  جیسے اللہ تم سے کرتا ہے۔
  • وفادار رہو، عاجز رہو، اور کسی کے دل میں زخم نہ دو۔

—————————    جاری ہے۔۔۔
شکریہ ۔۔۔
اِفری

عنوان :  ” فائیڈو اور فقیر: محبت، وفاداری اور خودی کا صوفیانہ راز

قسط 2
درِ یار کا کتا

کہتے ہیں، ایک فقیر نے ساری دنیا گھوم لی مگر سکون نہ پایا۔
آخر ایک دن وہ کسی دروازے کے باہر بیٹھا ،  جہاں ایک کتا روز آتا، در پر بیٹھتا، اور مالک کے فاضل لقمے کا انتظار کرتا۔
اگر اسے ہڈی ملتی تو دم ہلاتا، اگر پتھر لگتا تو خاموشی سے پھر وہیں لوٹ آتا۔

فقیر نے کئی دن یہ منظر دیکھا۔  پھر ایک دن اُس نے دل میں کہا: “اے رب! میں بھی اسی طرح وفادار بن  جاؤں! تیری دہلیز سے ہٹوں نہیں، چاہے میری دعا قبول ہو یا رد۔”

اسی لمحے اُس کے اندر سے ایک ندا  (آواز) اٹھی: “یہی وفا ہے، یہی محبت ہے ! کہ بندہ در سے نہ ہٹے، خواہ کچھ بھی ہو جائے۔”

فقیر مسکرایا۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بولا: “میں تیرا کتا بننے پر راضی ہوں، کہ تیری رحمت کا ایک ٹکڑا بھی پوری دنیا کی بادشاہی سے بہتر ہے۔”

صوفیا نے کہا: “جو اپنے رب کے در پر کتے کی طرح بیٹھنا سیکھ گیا، وہ بادشاہوں کے تخت پر بیٹھنے کے لائق ہو گیا۔”

کیونکہ بندگی دراصل وفا کا دوسرا نام ہے۔
اور وفادار وہی ہے، جو مالک کے در سے ہٹتا نہیں ! نہ نعمت میں، نہ آزمائش میں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بہتر بندہ   اور  اپنا غلام بناۓ جو صرف اسی کے  در کا  ہو۔ صبر سے نوازے، چاہے کتنی تکالیف و امتحان پیش آئیں۔  ہم ہر حال اس کے وفادار اور شکر گزار رہیں۔ اللہ وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما ۓ رکھے اور صرف اس کی محبت سے روشن ہو۔ امین
—-
شکریہ
اِفری

 

فائیڈو (Fido) درست تھا!  امریکی  اور انگریزی بولنے والے معاشروں میں فائیڈو کے درست ہونے کا بہت زکر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اپنے آپ بننے کا عزم کرو، اور جان لو کہ جو خود کو پاتا ہے، وہ راحت میں رہتا ہے۔ جب اس کو اور سمجھو تو پتہ چلا کہ وہ شخص بنو، جیسا تمہارا کتا تمہیں سمجھتا ہے۔

اُن کے ہاں جوانی اور بڑھاپے میں انسانوں سے زیادہ جانوروں مثلاً کتوں اور بلیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے۔ بہت پہلے جب پال ٹاک کا زمانہ تھا تو وہاں کے لوگوں سے جب آن لائن بات چیت ہوتی تو زیادہ تر ان جانوروں کو ہی اپنی تنہائی اور زندگی کا ساتھی بتاتے تھے۔ بہت سے لوگ یہ بتاتے کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ تعلق زندگی کے سب سے زیادہ مدد گار، مخلص اور غیر مشروط محبت بھرے تعلقات میں سے ایک ہے۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو ہمیں کتوں سے ملتی ہے جو انسانوں (ان کے ہاں شاید) سے نہیں ملتی؟

اُن میں بہت اعلی تعلیم یافتہ لوگ بتاتے کہ کتے ہمیں اس لیے چاہتے ہیں جو ہم ہیں۔ وہ ہم سے پیچیدہ توقعات یا مطالبات نہیں رکھتے۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بغیر کسی روک ٹوک کے محبت ظاہر کرتے ہیں، ایک چھوٹی سی تھپکی یا توجہ سے بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ سچے، وقف اور لمحے میں جینے والے ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس، ہم اپنے بارے میں اکثر ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو عدم محبت،  بےوفا اور ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔ ہم  اکثر خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر بے صبری دکھاتے ہیں، اور خود کو ہی  نیچا دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید ہم اپنے کتوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں — کیونکہ وہ ہمیں ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔

الحمد للہ ہم نے جن  اساتذہ سے پڑھا تھا وہ ہمیشہ ہم  میں بھلائی دیکھتے تھے ۔ میرے سکول میں استاد محترم جناب منیر احمد خلیلی صاحب حفظ اللہ نے میرا جنرل نالج اور شوق دیکھ کر میرا نام حضرت اقبال رح کی صد سالہ تقریبات میں ہونے والے اقبالیات پر مقابلہ میں شرکت کے لیے تجویز کردیا۔  شاید میں اس وقت لا ابالی پن میں اپنے اندر کی اس قدر اور صلاحیت سے نابلد تھا۔ اس مقابلے میں جان بوجھ کر نا گیا جہاں اقبال رح  کے بارے میں پر طالب علم  سے دس دس سوال پوچھے جاتے تھے ۔ میں  بوجہ وہی عدم دلچسپی، اپنے آپ کو ایویں سمجھ کر شریک نہ ہوا۔  شاید اس کی وجہ میرا شرمیلا پن بھی تھا کیونکہ دوبئی کے اس پاکستان اسلامیہ اسکول کی سائنس لیبارٹری میں ہماری ایک خاتون ٹیچر کے سات مہمان خواتین بھی تھیں ۔ میں نے برآمدے سے ایک دو بار نام بلانے پر گھیڑے مارے لیکن جھجک کی وجہ سے شامل نہ ہوا۔

مقابلہ ختم ہونے کے بعد جب محترم منیر صاحب اس قدر غصے میں تھے جبکہ میں بھی کَن آکھیوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ چونکہ کرکٹ اس وقت بھی کھیلتے تھے لہذا دل ایسے سے ہی دھڑک رہا تھا جیسے 20/20   میچ  میں فیلڈرز کی پابندی کی وجہ سے باؤلرز کا دھڑکتا ہے۔  لیکن محترم منیر صاحب کو میرے ایک دوست کرکٹ کھلاڑی جو سیٹ ہونے کے بعد بہت لمبے لمبے چوکے اور چھکے لگایا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ سیٹ ہو جانے کے بعد اکثر بیٹنگ کرتے ہوۓ کہتے “بس یار! فکر نہیں اب گیند مٹی کے گھڑے کے برابر دکھنے لگی ہے۔” ہر کوئی اپنے ماحول اور نسبت سے مثال دیتا ہے وہ گھڑے کی بات اس لیے کرتے تھے کیونکہ کا تعلق شہرِ گجرات سے تھا رام تلائی بازار سے تھا جہاں اور سرکلر روڈ پر برتنوں کی دکانیں تھی۔

میں نے اپنی تکلیف اور احساس ندامت  کی بات کو شوگر کوٹ کرنے کے لیے کرکٹ کی بات تحریر کری ہے۔ کیونکہ منیر صاحب کی عقابی نظروں اور ہاتھ میں امام بخش ہونے کی وجہ سے خیر نہیں کا پورا  ادراک تھا۔ شاید  عقابی نظروں میں باقی کلاس میں ہم جماعتوں سے  گیارہ گنا زیادہ نمایاں نظر آ رہا تھا یا دوسری مثال اُن کو گھڑا دکھائی دے رہا ہوں گا۔ چونکہ انہوں نے آتے کوئی بات نہیں کی اپنی کتابیں میز پر رکھیں اور ہمارا میرا، عبدالرحمن اور بابر کا بنچ ان کی میز کے عین سامنے ملحق تھا۔ اُن کے آ جانے پر احترام سے سب نے کھڑے ہو کر وعلیکم السلام سے جواب دیا اور آپ نے سب کو بیٹھنے کا حکم دیا لیکن میری شامت آئی!
مجھے بیٹھنے کا نہیں میدان میں آنے کو کہا ، پھر چاک سے انہوں نے وہ سارے دس سوالات ایک ایک کرکے  لکھنے شروع کیے اور مجھ سے جوابات لیتے جاتے۔ جب سب سوالوں کے جوابات درست بتاۓ تو انہوں نے شاباش کی بجاۓ ڈنڈا (بلا) نکال کر غصہ بھری دھلائی شروع کردی اور ساتھ اس بات کا اظہار کرتے کہ تمھارا وظیفہ لگ جانا تھا ، کیونکہ انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی میرا نام دیا تھا۔  پھر انہوں نے پوری تسلی کرکے  مجھے بٹھایا اور ہم تو تھے ہی مجرم   لیکن تب جانا کہ استاد کا غصہ دراصل محبت کی ایک سخت شکل تھی۔
بقول مجروح:
مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام

ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

میرا تعلیمی اداروں میں نصیب بہت اچھا تھا کہ عظیم لوگوں نے سرپرستی کی مگر ہمیں تھے جو ہمیشہ نالائق و  نا بیدار رہے۔  اللہ  ان سب نیک روحوں کو انعامات سے نوازے اور  منیر صاحب کو صحت کاملہ عطا کرے۔ امین
یہ بات ان اہلِ کرم کی شفقت اور خوبصورت یاد دلاتی ہے۔ کئی برسوں تک میں ان کے پاس اپنے خوف، احساسِ جرم اور کم مائیگی کے ساتھ رہا، لیکن وہ ہمیشہ مجھے سپورٹ کرتے، درگزر سے کام لیتے اور  اپنی دعاؤں سے نوازتے۔ الحمد للہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ آخرکار مجھے احساس ہوا کہ میرے اور اُن کے میرے بارے میں نظریات اتنے مختلف تھے کہ ہم دونوں میں سے ایک غلط ہونا ہی تھا۔  پھر میں نے فیصلہ کیا کہ وہ درست ہیں۔

اگر ایک شفیق استاد یا باپ یا کوئی بھی مہربان آپ کے اندر کوئی صلاحیت اور خوبی دیکھ کر آپ کو اس کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے تو اسے بڑھانا چاہیے ! موٹ مست دیہاتی بھینس کی طرح نہیں جو اپنی لے میں ہی چلتی و چرتی رہتی ہے  اور شام میں بھوکی گھر لوٹ جاتی ہے۔
ہم سب بھی وہ بن سکتے ہیں جو قدرت نے ہمارے اندر رکھا ہے بس اس کو جوہری کی طرح  کٹھالی سے گزار کر خالص جوہر کو نکالنا ہے۔
میاں محمد بخش رح نے بتایا کہ:
ریت وجود تیرے وچ سونا ایویں نظر نہ آوے

ہنجو دا گھت پانی لائیے۔۔ ریت مٹی رڑ جاوے

پارہ گھت محبت والا۔۔۔۔۔۔۔ گولی اک بناوے

خاک رلے وچ خاک محمد سونا قیمت پاوے

 ابتدا میں میں نے فائیڈو کو زکر کیا تھا مگر ڈانگ سوٹوں والوں کے تراہ کی وجہ سے بات کو زرا طوالت دینا پڑھی۔
فائیڈو دراصل کسی خاص جانور یا شخص کا نام نہیں — بلکہ ایک علامتی نام ہے جو کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں “Fido” کا مطلب ہوتا ہے وفادار” یا “Faithful”، اور یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ “Fidelis” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ایماندار، وفادار، سچا۔

اس لیے انگریزی بولنے والے اکثر جب کسی مثال یا کہانی میں “Fido” کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک وفادار، پیار کرنے والا، غیر مشروط محبت دینے والا کتا ہوتا ہے۔
یعنی “Fido” ایک عام کتے کا نام ہے، جیسے اردو میں کوئی کہے “ٹومی” یا “شیرو” — مگر یہاں یہ صرف علامت ہے۔  اس تحریر میں “Fido” اس خیال کی نمائندگی کرتا ہے کہ:  اگر ہم خود کو ویسا دیکھیں جیسے ہمارا کتا ہمیں دیکھتا ہے ، بغیر تنقید، بغیر شرط، صرف محبت کے ساتھ ، تو ہم زیادہ خوش، پُرامن، اور اصل خود سے قریب ہو جائیں گے۔

یعنی “فائیڈو” اُن معاشروں میں دراصل محبت، خلوص اور قبولیت کا استعارہ ہے. ۔  وہ کہتے ہیں کہ جو مالک کا کتا سمجھتا ہے مالک ویسا ہی ہوتا ہے۔  ان کے بقول شاید فائیڈو مالک کو اس کی اپنی نظر سے زیادہ صاف نظر سے دیکھتا ہو۔ شاید یہ نکتہ ہمیں بھی یہ جاننے میں مدد دے کہ ہم انفرادی طور پر کتنا محبت کے لائق ہیں، تاکہ میں دنیا میں خیر و وفا کی روشنی پھیلا سکوں۔

وہی ابتدائی الفاظ تھے جنہیں پڑھ کر لکھنے پر آمادگی ہوئی کیونکہ بات میرے دل میں اتر گئی — جیسے کسی نے ایک سادہ سا جملہ بول کر سچائی کا دروازہ کھول دیا ہو۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا اپنے کتے کے ساتھ رشتہ زندگی کے سب سے مخلص، پُر اعتماد اور بے لوث رشتوں میں سے ایک ہے۔  آخر ایسا کیا ہے جو ہمیں کتوں سے ملتا ہے، مگر انسانوں سے نہیں؟
کتے ہم سے محبت کرتے ہیں، بس اس لیے کہ ہم “ہم” ہیں۔
نہ وہ ہم سے کوئی پیچیدہ توقع رکھتے ہیں، نہ کوئی شرط ۔
وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں، دم ہلا کر اپنی محبت کا اعلان کرتے ہیں۔
انہیں بس ایک لمس، ایک مسکراہٹ یا سر پر ہلکی سی تھپکی چاہیے ہوتی ہے۔  اور وہ اس لمحے میں خوشی سے جیتے ہیں۔
وہ مخلص ہیں، سچے ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ ہمیں قبول کرتے ہیں جیسے ہم ہیں۔

اس کے برعکس، ہم انسان اپنے بارے میں اکثر ایسا سوچتے ہیں جو محبت کے خلاف ہوتا ہے۔
ہم خود پر تنقید کرتے ہیں، خود کو کمتر سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں پر سختی سے جج کرتے ہیں، اور اپنی قدر بھول جاتے ہیں۔
ہم خود کے ساتھ ویسے پیش نہیں آتے جیسے ہمارا کتا ہمارے ساتھ پیش آتا ہے ۔ شاید اسی لیے ہم اپنے کتوں سے اتنی محبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں وہ بننے کی یاد دلاتے ہیں جو ہم اصل میں ہیں: قابلِ محبت، اچھے، اور قیمتی ہیں۔

میرا ایک جاننے والا  دوست  ہمیشہ حالات سے گلہ شکوہ کرتا رہتا ہے حالانکہ معاملہ  سمجھ کا ہے کہ وہ بھی وہ بن سکتا ہے،  جیسا  اس کا کتا اسے سمجھتا ہے۔ اگرچہ میں نے کتے اور اس کی صفات پر پہلے لکھا تھا اور اسلامی نقطہ نظر سے معاملہ بیان کیا تھا۔ یہاں  “فائیڈو” کی بات ہو رہی ہے تو دیکھیں صوفیا نے اس بارے میں کیا کہا ہے۔ جیسے بابا بلہے شاہ نے کہا:
راتیں جاگیں کریں عبادت

راتیں جاگن کتے

تیتھوں اتے

بھونکنوں بند مول نا ہندے

جا روڑیں تے ستے

تیتھوں اتے

خسم آپنے دا در نا چھڈدے

بھاویں وجن جتے

تیتھوں اتے

بلھےؔ شاہ کوئی رکھت وہاج لے

نہیں تے بازی لے گئے کتے

تیتھوں اتے

پھر بقول میاں محمد بخش رح

جس دل اندر عشق نا رچیا ، کتے اس توں چنگے

مالک دے گھر راکھی کردے صابر بکھے ننگے

اس کی مزید ترغیب و تمثیل یوں کی کہ صوفیا  کے بقول “بے شرط محبت” محبت کا ہونا اعلی وصف ہے۔ صوفیاء کرام نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ اللہ اپنے بندوں سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ اُس کی مخلوق ہیں،  نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے۔ اسی طرح، وہ بندہ جو اللہ سے محبت کرتا ہے، اُس کی محبت بھی شرطوں سے آزاد ہوتی ہے۔
یہی کیفیت “فائیڈو” جیسی بے ساختہ، خالص محبت ہے۔

رابعہ بصریہ (رحمہا اللہ) نے فرمایا تھا: “میں اللہ کی عبادت نہ جنت کی طلب میں کرتی ہوں، نہ دوزخ کے خوف سے، بلکہ اس لیے کہ وہ عبادت کے لائق ہے۔”

یہ وہی بے غرض محبت ہے جیسے ایک وفادار جانور اپنے مالک سے محبت کرتا ہے، بغیر کسی لالچ، بغیر کسی شکایت کے۔

 

اسلامی صوفی ادب میں “کتا” اکثر اخلاص، وفاداری، عاجزی اور نفس کے فنا ہونے کی علامت کے طور پر آتا ہے۔

حضرت با یزید بسطامیؒ نے فرمایا: ” میں نے ایک کتے سے علم حاصل کیا، وہ جہاں بھی جاتا، اگر اس کو دھتکار دیا جاتا، تو وہ خاموشی سے چلا جاتا۔ میں نے اس سے صبر، قناعت اور عاجزی سیکھی۔”

شیخ سعدیؒ اپنی کتاب گلستان میں لکھتے ہیں: “اگر کوئی شخص اپنے رب کے در پر کتے کی طرح عاجز اور وفادار ہو جائے، تو اس کے لیے بھی درِ رحمت کھل جاتا ہے۔”

 اپنی خودی، عزتِ نفس یا خود کو قبول کرنے کا سبق   بھی ملتا ہے۔ صوفیانہ پیغام ہے جو کہتا ہے: “خود کو اُس نظر سے دیکھ، جس نظر سے تیرا خالق تجھے دیکھتا ہے۔”

قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
“اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” (سورہ الاسراء 17:70)

صوفیا اس آیت کو یوں سمجھاتے ہیں کہ: انسان اگر اپنے اندر اللہ کی عطا کردہ عزت، محبت اور نور کو پہچان لے، تو خود سے نفرت اور احساسِ کمتری ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے “سچے نفس” سے ملتا ہے۔ وہی “خود” جسے اللہ نے فطرتاً خوبصورت اور پاک بنایا۔

ایک خوبصورت صوفیانہ تشبیہ کہ: “اللہ کا بندہ اُس کتے کی مانند ہو جائے جو اپنے مالک کے در سے جدا نہیں ہوتا۔ اگر مالک اسے مارے بھی، وہ بھاگتا نہیں؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اسی در پر اس کی بھوک مٹے گی۔”

یہ تشبیہ ظاہراً سادہ لگتی ہے، لیکن در حقیقت محبت، وفاداری، صبر، اور فنا کی اعلیٰ ترین تعلیم ہے۔ آخر میں اتنا کہ مسلم صوفیاء کا پیغام فائیڈو کے پیغام سے ہم آہنگ ہے:

  • خود کو محبت اور کرم کے لائق سمجھو۔
  • اپنی اصل فطرت (نورِ الٰہی) کو پہچانو۔
  • بے غرض محبت کرو،  جیسے اللہ تم سے کرتا ہے۔
  • وفادار رہو، عاجز رہو، اور کسی کے دل میں زخم نہ دو۔

—————————    جاری ہے۔۔۔
شکریہ ۔۔۔
اِفری

عنوان :  ” فائیڈو اور فقیر: محبت، وفاداری اور خودی کا صوفیانہ راز

قسط 2
درِ یار کا کتا

کہتے ہیں، ایک فقیر نے ساری دنیا گھوم لی مگر سکون نہ پایا۔
آخر ایک دن وہ کسی دروازے کے باہر بیٹھا ،  جہاں ایک کتا روز آتا، در پر بیٹھتا، اور مالک کے فاضل لقمے کا انتظار کرتا۔
اگر اسے ہڈی ملتی تو دم ہلاتا، اگر پتھر لگتا تو خاموشی سے پھر وہیں لوٹ آتا۔

فقیر نے کئی دن یہ منظر دیکھا۔  پھر ایک دن اُس نے دل میں کہا: “اے رب! میں بھی اسی طرح وفادار بن  جاؤں! تیری دہلیز سے ہٹوں نہیں، چاہے میری دعا قبول ہو یا رد۔”

اسی لمحے اُس کے اندر سے ایک ندا  (آواز) اٹھی: “یہی وفا ہے، یہی محبت ہے ! کہ بندہ در سے نہ ہٹے، خواہ کچھ بھی ہو جائے۔”

فقیر مسکرایا۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بولا: “میں تیرا کتا بننے پر راضی ہوں، کہ تیری رحمت کا ایک ٹکڑا بھی پوری دنیا کی بادشاہی سے بہتر ہے۔”

صوفیا نے کہا: “جو اپنے رب کے در پر کتے کی طرح بیٹھنا سیکھ گیا، وہ بادشاہوں کے تخت پر بیٹھنے کے لائق ہو گیا۔”

کیونکہ بندگی دراصل وفا کا دوسرا نام ہے۔
اور وفادار وہی ہے، جو مالک کے در سے ہٹتا نہیں ! نہ نعمت میں، نہ آزمائش میں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بہتر بندہ   اور  اپنا غلام بناۓ جو صرف اسی کے  در کا  ہو۔ صبر سے نوازے، چاہے کتنی تکالیف و امتحان پیش آئیں۔  ہم ہر حال اس کے وفادار اور شکر گزار رہیں۔ اللہ وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما ۓ رکھے اور صرف اس کی محبت سے روشن ہو۔ امین
—-
شکریہ
اِفری

 

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *