Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU لیکچرز

دل اور وقت

دل اور وقت
حالیہ سرجری کے بعد سوچا کہ انسان کے پاس زندگی میں بہت سی نعمتیں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے قیمتی دو چیزیں اس کے پاس صرف “دل” اور “وقت” ہیں۔ اگر انسان اپنے دل کو کھو دے اور اپنے وقت کو ضائع کر دے، تو گویا اُس کی زندگی کا اصل سرمایہ ختم ہو جاتا ہے۔
وقت کی قدر کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ وقت ایک ایسی نعمت ہے جو ایک بار گزر جائے تو کبھی واپس نہیں آتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ
“زندگی اتنی قیمتی ہے کہ ایک سانس بھی ضائع کرنے کے قابل نہیں۔”
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر وقت کی اہمیت بیان فرمائی:
“وَالْعَصْرِ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ”
قسم ہے زمانے کی، یقیناً انسان خسارے میں ہے۔
(العصر: 1-2)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:”نِعمتانِ مَغبونٌ فيهما كثيرٌ من الناس: الصحةُ والفَراغُ”
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔
(صحیح البخاری)
یہی وجہ ہے کہ اہل دانش نے بھی کہا ہے کہ وقت دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو وقت کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔
دل کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟
دل وہ چراغ ہے جس سے زندگی کی سمت طے ہوتی ہے۔ اگر یہ چراغ بجھ جائے تو انسان خواہ کتنا ہی مال و دولت یا شہرت رکھتا ہو، اس کی زندگی بے نور ہو جاتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے:
“ألا وإن في الجسد مضغة، إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب.”
یاد رکھو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔”
(صحیح البخاری و مسلم)
اسی لیے دل کو محبت، رحمت اور نور سے منور رکھنا زندگی کی اصل کامیابی ہے۔ صندل کے درخت کی مثال ہمیں یہی سبق دیتی ہے:
یعنی “صندل کے درخت کی طرح بنو، جو اُس کلہاڑی کو بھی خوشبو دیتا ہے جو اُسے کاٹتی ہے۔”
بنجمن فرینکلن نے کہا: “ضائع کیا ہوا وقت دوبارہ کبھی نہیں ملتا۔”
اسی طرح لیونارڈو ڈاونچیکا قول ہے کہ : “ایک اچھا گزرا دن سکون کی نیند دیتا ہے، اور ایک اچھا گزری ہوئی زندگی خوشگوار موت دیتی ہے۔”
چلیں ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے ہیں۔ دراصل زندگی کا حاصل یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو نور اور محبت سے بھر دیں اور اپنے وقت کو بے مقصد چیزوں میں ضائع نہ کریں۔
اللهم اجعلنا ممن يصرفون أنفاسهم في طاعتك!
اے اللہ! ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جو اپنی سانسیں تیری اطاعت میں صرف کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہوا کہ انسان کی اصل دولت نہ مال ہے نہ شہرت، بلکہ اُس کا دل اور اُس کا وقت ہے۔ جو اپنے دل کو پاکیزہ اور اپنے وقت کو قیمتی بناتا ہے، وہی دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہے۔
اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *