Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU لیکچرز

قدریں، اخلاق اور آزادی

قدریں، اخلاق اور آزادی
میں آج کل جب کہ صحت کے حوالے سے بستر پر مکمل آرام کے وقفہ سے گزر رہا ہوں تو مجھے کُتب کے مطالعہ، اپنی جا بجا بکھری پرانی تحریروں اور ڈائریوں کو پڑھنے کے ساتھ فکر انگیزی کا بھی بھرپور موقع مل رہا ہے!
چونکہ میری اعلی تعلیم عمرانیات(سوشیالوجی) اور (اقتصادیات) اکنامکس میں ہوئی اور پھر ملازمت کا تین دہائیوں سے زیادہ کا عملی تجربہ بھی بعض اوقات معاملات کو سوچنے اور سمجھنے کا بھرپور موقعہ فراہم کرتا ہے!
یہاں میں “اخلاق اور آزادی” کو موضوع بنا کر آپ سب کے ساتھ اپنی راۓ سانجھی کرنا چاہتا ہوں۔
انسانی معاشرہ صرف افراد کے میل جول سے وجود میں نہیں آتا بلکہ وہ اقدار، اصول اور ضوابط پر قائم ہوتا ہے جو اس کے افراد کے مابین اعتماد اور بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔
اقدار (Values) کو یونانی فلسفی ارسطو نے انسانی فطرت کی تکمیل کے لیے بنیادی شرط قرار دیا، جبکہ اسلامی مفکرین نے انہیں “روحانی اور اخلاقی توازن” کا مرکز سمجھا۔
اقبال رح اپنے مندرجہ ذیل شعر سے دراصل اقدار اور اخلاق کے کردار کو واضح کرتا ہے۔
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
“اقدار” اور معاشرتی بقا کی ضمانت ہوا کرتی ہیں۔ قدریں کسی معاشرے کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہیں جو بنیاد کسی عمارت کے لیے۔
ابن خلدون رح نے اپنی مشہور تصنیف المقدمہ میں واضح کیا کہ جب کوئی قوم اپنی “اخلاقی اقدار “ سے انحراف کرتی ہے تو وہ اندرونی طور پر کمزور ہو جاتی ہے، اور بیرونی طاقتیں اس پر غالب آ جاتی ہیں۔ کیا یہی اصول آج پاکستانی معاشرے پر بھی صادق آتا ہے۔
“اخلاق اور آزادی” دونوں کو بعض اوقات غلط زاویے سے دیکھا جاتا ہے:
• اخلاق کو مذہبی جبر کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں “اخلاق” انسان کی شخصیت کا حسن ہے۔
• آزادی کو اکثر بے لگام رویے کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ آزادی انسان کی رُوح کی پرواز ہے۔
اگر ان دونوں کے درمیان توازن نہ رہے تو معاشرہ یا تو جمود کا شکار ہو جاتا ہے یا انتشار کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اسلامی زاویہ نظر سے اگر دیکھا جاۓ تو اسلام نے “آزادی اور اخلاق” دونوں کو متوازن کرنے کا بہترین اصول دیا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ” (البقرہ: 256)
یعنی دین میں جبر نہیں ہے ! یہ آزادی عقیدہ کی ضمانت ہے۔
اور پھر ساتھ ہی قرآن نے اخلاق کی بنیاد پر معاشرتی توازن قائم کرنے کی تعلیم دی ہے:
“وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” (القلم: 4)
یعنی نبی اکرم ﷺ اعلیٰ ترین اخلاق پر فائز تھے، یہ اخلاقی معیار کے کمال کی طرف رہنمائی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے: “قیمت المرء ما یحسن” یعنی انسان کی اصل قیمت اس کے حسنِ اخلاق سے پہچانی جاتی ہے۔
یہ دونوں پہلو دراصل “ آزادی اور اخلاق”! اسلام میں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مکمل کرنے والے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں اقدار کے بحران کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آزادی کو محض نعرہ بنا دیا ہے اور اخلاق کو صرف رسم۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
• نوجوان طبقہ Virtual Reality میں زیادہ جیتا ہے، لیکن حقیقی دنیا کے اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا میں فلمی کرداروں “سُپر مین” یا سپائڈر مین” کا کوئی وجود نہیں ہے!
• آزادی کی تعریف مغربی تصورات سے متاثر ہے، جبکہ اخلاق کو صرف مذہبی ضابطہ سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ:
“اخلاق اور آزادی کوئی اوڑھنے اُتارنے کا پردہ نہیں، نہ وہ اقدار ہیں جو وقتی خواہشات کی نذر کر دی جائیں۔ بلکہ یہ فکر کی رفعت ہے، شعور کا احترام ہے، آنے والے کل کی تعمیر ہے اور وہ عقیدہ ہے جسے انسان سینے سے لگا کر فخر کے ساتھ جیتا ہے، چاہے دنیا حقیقت کی ہو یا محض مجازی۔”
آخرِ کلام یہی ہے کہ اخلاق اور آزادی ایک معاشرتی سکّے کے دو رخ ہیں۔ اگر آزادی کو اخلاق کی حدود سے آزاد کر دیا جائے تو وہ خود غرضی میں بدل جاتی ہے، اور اگر اخلاق کو آزادی سے الگ کر دیا جائے تو وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے کی بقا اس بات پر ہے کہ ہم اپنی اقدار کو وقتی خواہشات اور سطحی اور سیاسی نعروں سے بچائیں، اور ان دونوں کو توازن کے ساتھ اپنائیں۔ یہی توازن آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
——
نوٹ: اکثر عزیز دوست تحریر پڑھتے ہیں مگر راۓ سے اجتناب کرتے ہیں جو معاشرے کی تعمیر کے لئے راۓ عامہ بنانے کے لئے آپ کی بات و سمجھ بہت اہم ہوتی ہے جیسا حضرتِ اقبال رح نے کہا بہت اہمیت رکھتی ہے!
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
سو اس موضوع پر اپنی گراں قدر آراء سے مستفیذ فرمائیں!
شکریہ
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *