قسط 66
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے “جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔”
آپ رضى الله تعالى کا یہ جملہ انسانی روحانی زوال کی ایک گہری تصویر پیش کرتا ہے۔ گناہوں کو “آسان” سمجھنا درحقیقت دل کی سختی اور ضمیر کے مردہ ہونے کی علامت ہے۔
چلیں قرآن و حدیث کی روشنی میں بھی اس حکمت بھرے قول کی سمجھنے کی کوشش کریں۔
گناہوں کی تکرار اور آسانی انسان کو اس کے اثرات سے بے حس بنا دیتی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“بلکہ ان کے دلوں پر ان کے (کئے ہوئے) اعمال نے زنگ لگا دیا ہے۔”
(سورۃ المطففین: 14)۔
حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے:
“مومن اپنے گناہ کو ایسے دیکھتا ہے
جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈر رہا ہو کہ کہیں وہ اس پر گر نہ جائے، جبکہ فاجر (گناہگار) اپنے گناہ کو مکھی کی طرح سمجھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہو اور وہ اسے اُڑا دے”
(صحیح بخاری: 6308)
یہ واضح کرتا ہے کہ گناہوں کو حقیر سمجھنا روحانی موت کی نشانی ہے۔
گناہوں کی کثرت انسان کو آخرت کی تیاری سے غافل کر دیتی ہے۔ قرآن پاک
فرماتا ہے:
“اور جو لوگ بُرے کاموں میں
پڑ جائیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں، پھر اللہ سے معافی مانگیں تو وہ اللہ کو
بخشنے والا، رحم کرنے والا پائیں گے”
(سورۃ النساء: 110)۔
لیکن جب گناہوں پر اصرار کیا جائے تو یہ رحمت کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ حدیث میں ہے
:
“جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے تو دل صاف ہو جاتا ہے، ورنہ یہ نقطہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے”
(سنن ترمذی: 3334)
توبہ کے دروازے کیوں بند ہوتے ہیں؟
توبہ کی قبولیت کی دو بڑی شرائط ہیں
:
فوری ندامت اور گناہ کو ترک کرنا۔
حدیث نبوی ﷺ کے مطابق:
“اللہ تعالیٰ رات کو دن کے گناہوں کو معاف کرتا ہے جب تک بندہ توبہ کرے، اور دن کو رات کے گناہوں کو معاف کرتا ہے جب تک بندہ توبہ کرے، یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا”
(صحیح مسلم: 2759)۔
لیکن جب موت کا وقت قریب آ جائے یا کائناتی نشانیاں ظاہر ہوں (جیسے سورج مغرب سے طلوع ہونا)، تو توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: **”توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا”**
(سنن ترمذی: 3533)۔
عملی اقدامات:
کس طرح بچا جائے؟
خود احتسابی:
روزانہ اپنے اعمال
کا جائزہ لیں۔ سورۃ الحشر (59:18) میں فرمایا گیا:
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ کل کے لیے اس نے کیا بھیجا ہے۔”
توبہ کی عادت:
حدیث کے مطابق:”اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو گناہ چھوڑ دے” (صحیح بخاری: 4141)۔
صالح صحبت:
گناہوں کی ترغیب دینے والے ماحول سے بچیں۔
گناہوں کو معمولی سمجھنا اور توبہ میں تاخیر کرنا شیطان کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل کی نگہبانی کریں اور ہر لمحہ اللہ کی رحمت کے دروازے پر دستک دیتے رہیں۔
یاد رکھیں: “توبہ کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے”
(سورۃ البقرہ: 222۔
میرا مقصد یہ مضمون لکھنا خود کو اور آپ کو یاد دلانا ہے کہ گناہوں کی عادت روحانی موت ہے، جبکہ توبہ کی عادت زندگی کی کنجی۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے ہمیں دائم استغفار مانگتے رہنے کا سبق دیا۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
شکریہ ۔۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ- الامارات
All reactions:
![]()
