تم مجھے یاد کرو گے
کیونکہ میں تمہاری محبوبہ نہیں تھی؛
تمہارے کئی محبوب ہیں
اور میں تمہاری دوست نہیں تھی؛
تمہارے کئی دوست ہیں۔
پھر جاننا چاہتے ہو، میں کون تھی؟
،میں تمہارے لیے ماں تھی
،تمہارے لیے آغوش تھی
تمہیں وہ پیار دوبارہ نہیں ملے گا
، جو میں نے تمہیں دیا
، تمہیں اپنے لعل بچے کی طرح پالنا
تمہارے ناز، تمہارے شرارتیں، سب میرے دل کے قریب تھیں۔
… اور تمہیں واپس کرنا
، میرے لیے کتنا مشکل تھا
اور تمہیں کبھی کوئی عورت وہ محبت اور توجہ نہیں دے سکتی
جو میرے آغوش میں تھی۔
… اور میں بھی
، تمہیں یاد کروں گی
، میرا لعل بیٹا، جو کبھی مجھے دیوانہ کر دیتا
، کوئی عورت تمہارے تضادات نہیں سہہ سکتی
، کوئی عورت دوبارہ معافی نہیں مانگے گی
جیسے میں نے تمہارے لیے کی۔
، تمہیں، اے دل کی جان
، میرے بعد کوئی تمہیں میری طرح نہیں چاہ سکے گا
، نہ کوئی عاشقہ تمہاری تقدیر بنے گی
اور تمہاری ہر چھوٹی بات، تمہیں میری یاد دلاتی رہے گی۔
:میرا لعل بیٹا
، میری کوشش مت کرو کہ تم مجھے بھلا دو
، میں کوئی عام عورت نہیں
اور تم بھی کوئی عام بچہ نہیں تھے۔
، میرے بعد محبت کی نئی دنیا بساؤ گے
مگر ہر طرف میری یاد تمہارے ساتھ رہے گی۔
—————-
اِفری
![]()