A moral tale، A parable with a lesson، Anecdote، challenges، dubai، Education، Fable، Family، Forgotten Poem نظم
سیڑھی اور سکون
سیڑھی اور سکون
مدتوں سے یہ ٹوٹی پھوٹی سیڑھی
میرے گھر میں سنبھال رکھی ہے
جب کبھی بھی دل تھک جائے
اور در و دیوار سے وحشت آنے لگے
تب میں یہ سیڑھی لگاتا ہوں
اور چھت کی طرف بڑھ جاتا ہوں۔
یہ سیڑھی فقط ایک راستہ نہیں
یہ میرے سکون کا نشان ہے
جب دنیا کے بوجھ سے دل دُکھی ہو
اور فضا میں گھٹن ہو
یہی سیڑھی مجھے آزادی دیتی ہے
مجھے پرواز کا احساس دلاتی ہے۔
چھت پہ چڑھ کر، میں اپنے آپ کو پا لیتا ہوں
خود کو زمین سے بلند
دیکھتا ہوں آسمان کی بے حد وسعت
اور پھر احساس ہوتا ہے کہ
یہ بکھری ہوئی سیڑھی
میرے قدموں کو آسمان تک پہنچانے کا خواب ہے۔
یہ سیڑھی نہ صرف ایک راستہ ہے
بلکہ وہ ہمت ہے، جو مجھے اپنی تقدیر کا حصہ بناتی ہے
جہاں میں گھٹن سے نکل کر
اپنی حقیقت کا قد بڑھا لیتا ہوں۔
![]()

