اصل سہارا
ایک درویش بزرگ کی محفل میں ایک نوجوان آیا۔ اس کے چہرے پر غم کے سائے تھے اور دل بوجھل تھا۔
:نوجوان نے کہا
حضرت! ہر طرف سے میرے راستے بند ہو گئے ہیں۔ دوست ساتھ چھوڑ گئے، رزق کی راہیں رُک گئیں، اور سہارا دینے والا کوئی نہ رہا۔ میں دن بدن ٹوٹ رہا ہوں۔
:بزرگ نے مسکرا کر فرمایا
بیٹا! سنو ایک راز۔ انسان جب مخلوق پر سہارا ڈھونڈتا ہے تو وہ ایک نہ ایک دن ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر جب خالق کا سہارا لیتا ہے تو وہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔
اگر ایک دن کائنات کے سب دروازے تجھ پر بند ہو جائیں، تو جان لے کہ اللہ کا دروازہ وسیع ہے اور ہمیشہ کھلا ہے۔
اسی پر توکل کرو، اسی سے امید باندھو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ انسان کے سہارے کمزور ہیں، لیکن اللہ کا سہارا لامحدود اور ہمیشہ باقی ہے۔
:نوجوان کی آنکھوں میں روشنی آ گئی۔ اس نے کہا
“حضرت! آج سمجھ آیا کہ اصل سہارا اللہ ہے۔”
:بزرگ نے جواب دیا
ہاں بیٹا، اللہ کی رحمت کی وسعت سمندروں سے بھی زیادہ ہے، اور اس کا دستِ کرم کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ جب بھی تم ایسی کیفیت سے دوچار ہو تو اپنی اسلامی تعلیمات کی طرف اپنے یقین کے لیے رجوع کرو ٓ۔ یوں تھماری بے چینی دور اور راستہ و فہم مل جاۓ گا۔
قرآن کریم
“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”
۔اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے
[سورۃ الطلاق: 3]
“إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ”
بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا
[سورۃ الشعراء: 62]
“وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ”
.اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
[سورۃ الاعراف: 156]
حدیث شریف
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير، تغدو خماصاً وتروح بطاناً”
اگر تم اللہ پر ویسا ہی توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں
[سنن الترمذی، حدیث 2344]
…………………
اللہ تعالی ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ امین
![]()
