اک مشغلہ
کب سے یہ مشغلہ ہے میرا…
روز ایک نیا کاغذ اُٹھاتا ہوں،
جس پر ایک کہانی لکھتا ہوں نئی، پرانی، کچھ سنی، کچھ ان سنی…
کبھی وہ ہنستی ہے میرے ساتھ،
اور کبھی جیسے خاموش ہو کر میری آنکھوں میں آنسو رکھ جاتی ہے۔
میں اُس کہانی کے بیچ خود کو کھو دیتا ہوں،
کہیں ایک کردار میں، کہیں ایک سایے میں،
جو چپکے سے آ کر میرے کان میں کوئی پرانا دکھ دہراتا ہے۔
کبھی وہ کردار مجھ سے سوال کرتے ہیں،
جن کے جوابات میں خود نہیں جانتا۔
کچھ ادھوری خواہشیں ہیں،
کچھ حسرتیں جو وقت کی گرد میں کہیں دفن ہو گئیں،
جنہیں میں بار بار زندہ کرتا ہوں،
صرف اس لیے کہ وہ پھر مر سکیں۔
پھر، ہر رات !
میں وہ کاغذ آگ میں ڈال دیتا ہوں،
دھواں اُڑتا ہے !
اور کچھ دیر کے لیے میرا کمرہ
کسی جلتے خواب کی خوشبو سے بھر جاتا ہے۔
اِفری
![]()
