Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

لُغَتِ حَیات

“لُغَتِ حَیات میں بے وَفائی کا کوئی صَفحہ نہیں”

کیونکہ عِشق، لُغَتوں کا پابَند نہیں ہوتا

اور وَفا، لَفظوں میں نہیں — اِرادے میں سانَس لیتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں، کوئی گیا، کوئی چھُوٹا، کوئی بَدَل گیا

پَر میں کہتا ہوں، شایَد وُہ وَقت تھا جو بَدَل گیا۔

ہم تو وُہی رہے

بَس لَمحے بَدَلتے گئے، اور اِن لَمحوں کی چھَت تَلے

ہم اپنی اپنی چھاؤں ڈُھونڈنے نِکلے۔

میں نے تُجھے چھوڑا نہیں تھا

میں تو کِسی مَجبُوری کا ہاتھ تھامے

وَقت کی دھُند میں کھو گیا تھا

اور تُو…

شایَد اپنی ہی خاموشی کی گَہرائی میں ڈُوب گئی تھی۔

تُو اگر کَل ہم اَجنَبی بَن گئے

تو سَمَجھ لینا — یہ بے وَفائی نہیں تھی

یہ دو مُسافروں کا وُہ فاصِلہ تھا

جو صِرف زَمین ناپ سکتی تھی

دِل نہیں۔

…….

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *