سلاماً على قلبٍ يتألم قبل المنام، ويبكي بكاء العالم ولم يشعر به أحد
سَلام اُس دِل پِہ جو ہر شَب بے سُکون رہتا ہے
خَاب آتے ہیں مگر آنکھوں میں خُوں رہتا ہے
وُہ جو سَب ہَسْتے ہُوئے چہْروں کو تَکا کرتا تھا
اب بھیڑ میں گُم ہے، مَگر کُچھ کُچھ جُدا رہتا ہے
رات کو روتا ہے دُنیا کے لِیے بے آواز
اور پِھر خُود سے خَفا، خُود سے خَفا رہتا ہے
نِیںد جب بَستَرِ تَنہَائی پِہ سائے بُنے
دِل کہِیں دُور کِسی زَخم کی صَدا رہتا ہے
مَیں نے ہر دَرد کی تاوِیل اُسی میں پائی
وُہ جو سَب کے لِیے جیتا تھا، کیا رہتا ہے؟
عَجِیب شَخص ہُوں مَیں بھی، اِفْری کہ اَکْثر
وُہی دِل یاد آتا ہے جو کھو چُکا رہتا ہے
![]()
