Kheyal Darya

A mound of thoughts

لیکچرز

آذان

آذان
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ
اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔
الله أكبر، الله أكبر – اللہ سب سے بڑا ہے۔
اذان کو متنازع بنانا ، ایک فکری المیہ:
آج کل اسلامی جمھوریہ پاکستان میں آذان دینے پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسے دیکھتے ہوۓ سوچا زرا غواص بن کر بحر علمی سے آذان کی حکمت کے کچھ موتی اکٹھے کیے جائیں۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں اسلام ریاستی تشخص اور قومی وحدت کی بنیاد ہے، وہاں اذان پر اعتراض یا اسے سیاسی و متنازع موضوع بنانا دراصل ایک سماجی و فکری بیماری کی علامت ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو ہماری اصل روحانی پہچان کو کمزور کرتا ہے۔
اذان کی اصل حیثیت
اذان محض نماز کی اطلاع نہیں بلکہ اسلام کی اجتماعی شناخت ہے۔ یہ دن میں پانچ بار ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ دراصل یہ اسلامی تہذیب کی تجدید ہے۔ اذان کو متنازع بنانا اپنی ہی روحانی پہچان سے ٹکر لینے کے مترادف ہے۔
اعتراضات کی بنیاد کہاں سے؟
سماجی پہلو:
– پاکستان میں موجود بعض ذاتی اور دُنیاوی مفاد پرست طبقات کو اس سے چڑ سی ہوتی ہے۔
– بڑے شہروں میں شور اور آواز کو بہانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ آواز نہیں بلکہ تہذیبی شعور کی کمی ہے۔
سیاسی پہلو :
– پاکستان میں اکثر معاملات کو سیاست کے رنگ میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اذان جیسے مقدس شعیر کو بھی سیاسی بحث کا ایندھن بنا دینا ہماری فکری کمزوری ہے۔
مغربی اثرات:
– مغرب زدہ ذہنیت مذہب کو صرف ذاتی دائرے تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن اسلام محض انفرادی مذہب نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا ضابطہ ہے۔
تاریخی و فقہی پہلو:
– اسلام کے آغاز ہی سے اذان کو “شعائر اللہ” (اللہ کی نشانیاں) قرار دیا گیا۔ قرآن کہتا ہے:
“وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ”
(الحج: 32)
اذان پر اعتراض دراصل اسی تعظیم کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جہاں اذان دبانے کی کوشش کی گئی (کشمیر، اندلس، عثمانی سلطنت وغیرہ)، وہاں اسلام اور زیادہ مضبوط ہوا۔
آج کے پاکستان کے لیے سبق:
اصل مسئلہ اذان نہیں بلکہ عدم برداشت ہے۔ ہمیں برداشت، حکمت اور شعائر اللہ کی عزت کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی بقا اور روحانی طاقت اسی میں ہے کہ وہ اپنے اسلامی تشخص کو مضبوطی سے تھامے رکھے، ورنہ یہ معاشرہ محض سیاست کا تماشا بن کر رہ جائے گا۔
آذان پر اعتراض دراصل اذان پر نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی کمزوری، سیاسی تقسیم اور مغربی ذہنی غلامی پر ہے۔ اذان اللہ کی کبریائی اور محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی ہے — اور یہی پاکستان کی اصل روح ہے۔ اسے متنازع بنانا اپنی بنیاد پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
دُنیا کے اگر دو مقامات اگر سماٹرا انڈونیشیا (مثلاً میڈان) اور لاطینی امریکہ (مثلاً لیما) کے درمیان دیکھیں تو ان دونوں کے درمیان وقت کا فرق تقریباً ~11.7 گھنٹے ہے۔ یہاں ان دونوں مقامات کو ایک نمونہ کے طور پر لیا ہے۔
ان دو شہروں میں نماز کے اوقات سورج کے حساب سے ہوتے ہیں۔ فجر (صبح کی صبحی روشنی/دون)، ظہر (سورج کے بالکل اوپر سے گزرنے کے بعد)، عصر (دوپہر کے بعد جب سایہ مخصوص طوالت تک پہنچے)، مغرب (غروبِ آفتاب) اور عشاء (سرخی/شفق کے غائب ہونے کے بعد) یہ اصول سب مکاتبِ فکر میں مشترک بنیاد رکھتے ہیں.
بغیر ٹیکنیکل و فنی طول و عرض بلد کے الجھاؤ میں آۓ سادہ زبان اور سمجھ کے لیے یہ فرق بتاتا ہے کہ جب “میڈان” میں صبح ہو رہی ہو تو “لیما” میں اسی لمحے تقریباً شام یا رات کا وقت ہوگا۔ اسی لیے دونوں جگہ ایک ہی نماز کا وقت ایک ہی مقامی گھڑی پر تقریباً 12 گھنٹے مختلف ہوگا۔
جب دنیا بھر کے تمام طُول بلد اور مسلم آبادی کو شامل کرتے ہیں تو آذان واقعی اس طرح پھیلتی ہے کہ تقریباً ہر لمحہ کہیں نہ کہیں اذان ہو رہی ہوتی ہے یعنی اللہ اکبر اور محمد ﷺ کا ذکر تقریباً دن کے ہر حصے میں کسی نہ کسی ملک/شہر میں بلند ہوتا پایا جاتا ہے (یہ عملی/سماجی حقیقت ہے کیونکہ مسلمان مختلف ٹائم زونز میں بکھرے ہیں اور ہر روز پانچ وقت آتے ہیں)
گویا زمین کی گردش، سورج کے بدلتے مقام اور مسلمانوں کی جغرافیائی پھیلاؤ کی وجہ سے اللہ اکبر اور محمد ﷺ کی صدا دنیا کے مختلف کونوں میں بہ تسلسل سنائی دیتی ہے۔
یہ آذان کا یوں تسلسل رہنا اور آللہ اکبر اور محمد رسول اللہﷺ کی صداییں بلند ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت حق دیتے ہوۓ اس پر قایم رہنے کا عہد نامہ ہے۔ آخر اس عہد نامہ کو بار بار دوہرانے کا پس منظر کیا ہے؟ اس کو بعض قرآنی حوالوں سے ملاحظہ کرتے ہیں۔
سورۃ الانشراح (الم نشرح لک صدرک)
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔
آپ ﷺ کا ذکر کا بلند ہونا۔
امام قتادہ فرماتے ہیں: اللہ نے فرمایا کہ جہاں بھی میرا ذکر ہوگا وہاں آپ ﷺ کا ذکر بھی ہوگا (یعنی اذان، اقامت، تشہد، خطبہ، نماز)۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ لا إله إلا الله کے ساتھ محمد رسول الله ﷺ کا ذکر بھی بلند کریں۔
گویا یہاں واضح ہوا کہ حضور ﷺ کا ذکر بلند کرنا اللہ کی مشیت ہے اور آپ کی رسالت قیامت تک ہر زبان پر جاری رہے گی۔
سورۃ الکوثر
إِنَّا أَعْطَيْنَٰكَ ٱلْكَوْثَرَ ۝ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ ۝ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ۔
شانِ نزول و واقعات: مکہ میں بعض کفار (ابوجہل، عاص بن وائل وغیرہ) حضور ﷺ کو طعنہ دیتے تھے کہ آپ کے بیٹے فوت ہو گئے ہیں، اس لئے آپ کی نسل ختم ہو گئی، آپ “ابتر” (جس کا کوئی سلسلہ باقی نہ رہے) ہیں۔
اس کے جواب میں اللہ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ (نعوذباللہ) آپ کو “ابتر” کہنے والے ہی کا نام مٹ جائے گا، آپ ﷺ کا نہیں۔
الکوثر کا مطلب: اکثر مفسرین کے نزدیک “الکوثر” ایک عظیم خیر اور نعمت ہے۔
حدیث میں ہے: یہ جنت میں ایک نہر ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا کی ہے (صحیح مسلم: کتاب الصلاۃ، باب إثبات حوض نبینا ﷺ)۔
بعض نے کہا کہ “الکوثر” ہر وہ خیر ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دی گئی: قرآن، امت، علم، شفاعت، اور قیامت تک ذکر۔
شانِ رسولﷺ:
اللہ نے آپﷺ کو عظیم نعمتیں عطا کیں۔ آپﷺ کا ذکر قیامت تک باقی رہے گا، آپﷺ کے دشمن ہی مٹ جائیں گے (اور یہی ہوا عاص بن وائل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں، جبکہ محمد ﷺ کا نام دنیا کے کونے کونے میں لیا جاتا ہے)۔
اب زرا مشترکہ پیغام (دونوں سورتوں سے) اخذ کرتے ہیں۔
ذکرِ رسول ﷺ کو اللہ نے بلند کیا ہے۔
اذان، نماز، خطبہ، درود و سلام، کلمہ، ہر جگہ آپﷺ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔
دشمن مٹ گئے، رسول ﷺ باقی ہیں ۔
سیرت و تاریخ گواہ ہے کہ آپﷺ کے مخالفین کے نام و نشان مٹ گئے جبکہ امتِ محمدیہ دنیا کے کونے کونے تک پھیل گئی۔
آپ کی ذات خیرِ کثیر کا مرکز ہے
آپ کو شرحِ صدر، رسالت، قرآن، امت، کوثر، شفاعت سب کچھ عطا ہوا۔
جولائی 13 ،1931 کو سری نگر کشمیر کے اردگرد ایک وقعہ پیش آیا، جب ڈوگرا راج کے دور میں قیدی کے مقدمے/جہاں عوام جمع تھے اس کے موقع پر پولیس/سرکاری افواج نے فائرنگ کی۔ اس دن مؤذن (آذان دینے والا) کو شہید کیا گیا؛ ایک اور مؤذن شہید ہوا، پھر دوسرے نے اذان مکمل کرنے کی کوشش کی تو اُسے بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور بقول مختلف روایتوں کے (تقریبا” 13 یا 22) یا زیادہ افراد ایک کے بعد ایک اذان ختم کرنے کے لیے آگے آئے اور شہید ہوئے۔
اس یادگار واقعے کو یومِ شہداءِ کشمیر کے طور پر یاد رکھا گیا۔ اس واقعے کی یاد میں مقامی اور پاکستانی حلقے 13 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتے آئےتھے۔ مگر 2019 میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے اسے سرکاری تعطیل فہرست سے ہٹا دیا۔
آذان کی اہمیت و مرتبہ : پھر سے اہمیت سمجھتے ہیں ۔ آذان اسلام کی وہ عظیم صدا ہے جس کے ذریعے اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اعلان دن میں پانچ مرتبہ کیا جاتا ہے۔ یہ ختمِ نبوت کا کھلا اعلان ہے۔ یہ محض نماز کی اطلاع نہیں بلکہ ایمان و عمل کی تجدید ہے۔ آذان دنیا کے ہر خطے میں مسلمانوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کرتی ہے اور اللہ کے دین کی عالمگیریت کی علامت ہے۔
احادیث میں آذان کی فضیلت یہ ہے کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔”
(صحیح بخاری، کتاب الاذان، حدیث 608؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، حدیث 389)
اذان اور دعا کی قبولیت، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی۔”
(سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، حدیث 521)
آفات و خوف میں اذان:
فقہاء نے لکھا ہے کہ خوف یا بلا کے وقت اذان دینا سنت ہے کیونکہ یہ ذکر اللہ کی رحمت اور برکت کو جذب کرتا ہے۔ (امام نووی، المجموع شرح المہذب، ج 3، ص 85)
اذان کا عالمی سفر
آذان کا زمین کے مختلف طول البلد اور مسلم آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے نماز کے اوقات ایک دوسرے سے مختلف رہتے ہیں۔ یوں تقریباً ہر لمحہ کسی نہ کسی جگہ اذان کی صدا بلند ہو رہی ہے۔ یہی مفہوم امام سیوطیؒ کے قول میں جھلکتا ہے کہ:
“رسول ﷺ کا ذکر کبھی منقطع نہیں ہوگا؛ دن رات، ہر لمحہ آپ کا ذکر جاری رہے گا۔”
(الدر المنثور، ج 8، ص 411)
مشکلات و آفات میں اذان کا کردار:
کشمیر کا تاریخی واقعہ بھی ہمارے لیے چشم کُشا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اذان محض اعلان نہیں بلکہ قربانی، استقامت اور ایمان کی استعارہ ہے۔
بلاؤں کے وقت اذان:
احادیث اور فقہی متون میں یہ بات ملتی ہے کہ قحط، طاعون یا زلزلے جیسے حالات میں اذان دینا باعثِ سکون اور اللہ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج 1، ص 55)
اذان دینے کے مواقع:
۔ پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے۔
۔ جماعت قائم کرنے کے وقت۔
۔ نومولود بچے کے کان میں اذان دینا (سنن ابی داود، حدیث 5105)۔
۔ خوف، آفات اور غیر معمولی حالات میں۔
آذان اسلام کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔ یہ اللہ کی کبریائی اور رسول اللہ ﷺ کے ذکر کو بلند کرتی ہے۔ آذان کے ذریعے مسلمان دن میں پانچ مرتبہ ایمان تازہ کرتے ہیں۔
یہ صدا نہ صرف مسجدوں میں گونجتی ہے بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی وحدت، دشمنوں پر غلبہ، اور مشکلات میں صبر و حوصلے کا پیغام بھی ہے۔ کشمیر کے شہداء کی آذان ہو یا دنیا بھر میں مسلسل جاری رہنے والی اذان، یہ حقیقت قیامت تک باقی رہے گی کہ
اللہ ہی اکبر ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کا زکر اللہ نے کہہ دیا۔ “وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”۔
شکریہ ۔۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔
———————–
اہم حوالہ جات
سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ۔
صحیح بخاری، کتاب الاذان۔
صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ۔
بلاذری، فتوح البلدان۔
ابن ہشام، السیرۃ النبویہ۔
امام نووی، المجموع شرح المہذب۔
فتاویٰ عالمگیری۔
محمد یوسف سرور، تاریخِ کشمیر۔
شیخ محمد عبداللہ، آتشِ چنار۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *