قَلَم بھی گَھوڑے کی مانِند ہے،
اِگر اُس کی ٹاپوں میں رَوانی نہ ہو،
اور اُس کی پَروَاز میں جَولانی نہ ہو،
تو سَمَجھ لو کہ اُس کا سَوار ابھی فَنِّ تَحریر کا اَناڑی ہے۔
اَصل کَمال یہ ہے کہ قَلَم کا ہَر لَفظ بَجلی کی کَوند کی طَرَح چَمکے،
سَوچ کی ہَر دَھڑکَن کو کاغَذ پر یوں دَوڑائے
جَیسے ماہِر سَوار مَیدان میں گَھوڑے کو دَوڑاتا ہے۔
قَلَم جَب ماہِرَت والے ہاتُھوں میں آتا ہے
تو وَہ خُموشی کو زَبان دیتا ہے،
اور جَب اَناڑی ہاتُھوں میں ہو
تو اَلفاظ بَے جان ہو کر بَکھر جاتے ہیں۔
———
محمد افراہیم بٹ۔
![]()