Kheyal Darya

A mound of thoughts

غزلیات

سَمَجھا نَہیں

مَستی میں تھا وہ سَچّائی سَمَجھا نَہیں
مِرے لَہجے کی گَہرائی سَمَجھا نَہیں

نابِینا تھا وہ دُنیا کی طَلَب میں اِتنا
کیا ہے دِل کی بَینائی سَمَجھا نَہیں

مَر رَہے ہیں روٹی کو تَرَستے ہیں لوگ
اَمِیرِ وَطَن اَبھی نَوحَہءِ مَہنگائی سَمَجھا نَہیں

بیچ دِیا ہے وَطَن سارا غَیر کے ہاتھ
سِیاسَت کرتا ہے رُسوائی سَمَجھا نَہیں
——

ہم خانہ بَردوش ہیں دُنیا میں ایسے
شَہر بَدلے مَگر کہِیں کوئی شِناسائی نَہیں

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *