بارہ من کی دھوبن
کانے سے کٹی قلم، دواتِ سیاہی تک
پہنچی ہوئی ہے بات، برانڈڈ قلم گواہی تک
تین پہیوں کی معصوم سواری سے شروع ہوا
موٹر بائیک، موٹر کار، شان و جاہی تک
گھر کی دہلیز سے سفر ہوا نگاہوں کے افق تک
گھوم آیا ہوں جہاں، دیکھی ہر راہی تک
پر سب کھیل سمٹا ہے اُس پردے کے پیچھے
جہاں راز بند ہے، “بارہ من کی دھوبن” کی پناہی تک
میں لوٹا ہوں سفر کی گرد اوڑھے بدن پر
پڑتال کرتا رہا، لمحہ لمحہ، صداؤں کی راہی تک
عصرِ نو کی روشنی میں، ماضی کے چراغ جلے
میں ڈھونڈھ رہا ہوں وہ دھوبن، خوابوں کی پناہی تک
![]()