دیوانے کی باتیں
١. خیالی دنیا کہیں نہیں ملتی اسے بنانا ہوتا ہے۔ ذمین ، گھر رشتے سب قربانی، محنت اور قرب کے باعث ہمارے جذباتی لگاؤ کا ذریعہ بنتے ہیں ورنہ ان میں سے کسی سے بھی محبت پیدا نہیں ہوتی۔۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل
٢. جیسے رشتے قایٔم کرنے سے پہلے چھانٹ پھٹک کرنا ہوتی ہے ،جانوروں کی نسل اور زمین کی مٹی کا مختلف جگہوں سے ٹیسٹ بھی ضروری ہو تا ہے۔ تاکہ اس کی تربیت یا بناوٹ کی پرکھ ہو سکے۔ ایسے ہی رویوں کا پرکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ پچھتاوۓ سے بچا جاسکے۔ بظاہر یہ عمل مشکل ہوتا ہے مگر اس میں ہی بھلایٔی ہوتی ہے۔
٣. عورت کی خوبصورتی اس کے گہنے و زیورات ۔ گھر کو بنانا سجانا اس سے محبت اور لگاؤ کا اظہار ہو تا ہے ویسے ہی زمین پہ درخت اس کا زیور ہیں یہ بھی ہم سب کی محبت اور نفرت کا پتہ دیتے ہیں۔
٤. مشکلات اور مسایٔل پیدا کرنے والے عناصر۔ انسانوں ۔ جانوروں ۔ کیڑوں اور جڑی بوٹیوں سے وقتی چھٹکارہ ضروری ہوتا ہے ورنہ نقصان اور خسارے کے بعد ہوش میں آنا عقلمندی نہیں ہوتا۔
٥. ذندگی میں ذیادہ تر بلا ضرورت و حیثیت توقعات اور خواہشات مشکلات کو پیدا کرتی ہیں۔ کسی انسان کے کردار اور زمین کے پانی کی سطح اور زرخیزی ایک جیسی بات ہے۔ جہاں جو مناسب ہو وہی مدِنظر رکھا جاۓ ورنہ نقصان دہ اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔
٦. انسان کے فیصلہ کرنے کی قوت اس کی بلوغت اور پختہ ذہنی کا پتہ دیتی ہے۔ کچھ فیصلے جلد اور کچھ پرکھ کے بعد ہوتے ہیں ان کی نوعیت اور ضرورت کے مطابق جیسے فصل اپنے وقت اور موسم پہ ہی بویٔی جاتی ہے ورنہ بڑھوتری نہیں ہوتی اور کسی حد تک کھاد کا استعمال ٹھیک ہے ورنہ ذیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔
٧. وفا جفا ذندگی کی قدریں ہیں لیکن نبھاہ وقت اور حیثیت سے ہوتا ہے۔ ہر کویٔی تاج محل نہیں بنا سکتا لیکن محبت اور امن والا گھر ضرور دے سکتا ہے جو محلات والے ترستے ہیں ۔ خواہشات کے پیچھے بھاگنا کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہے لیکن خواب دیکھو تو ان کی تعبیر ہی اصل مطلوب ہوتی ہے۔
٨. جو تعلیم ہماری ماؤں نے پکی روٹی ۔ قران و سنت سے حاصل کرکے گھروں کو گھر کیا ۔
آج کے فیس بک اور مغربی رویے ہمارے اندر دیواریں اور تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ ہمیں اتحاد ، نماز اور اخوت سے سکھایٔی گیٔی جو رب تعالی کا کھینچا ہوا عبودیت کا دایٔرہ ہے جبکہ مغرب “میںً ذات اور ذاتیات کو فوقیت دی جاتی ہے چاہے دوسرے کو بھلے ہی نقصان کیوں نہ ہو ۔ جبکہ اسلام صدقات۔ ذکات سے اخوت کو عام کرتا ہے۔
٩. کہتے ہیں اماں حوا کی فرمایٔش پہ بابا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنا پڑا ۔ اچھے مرد اور اچھی عورت نصیب سے ملتے ہیں۔ ان دونوں نے تو اللہ سے معافی مانگ لی تھی کیا ہمیں استغفار کی توفیق ہویؑی ورنہ میں نے میلے میں دیکھا تربوز بیچنے والا تربوزوں کے ڈھیر پہ بیٹھا آوازہ لگا رہا تھا ً جیہڑا کپٔی دا اویو لال” اور عربی میں کہتے ہیں ایسے کردار بطیخ جیسے ہوتے ہیں کٹنے پہ پتہ چلتے ہیں۔
سب دی خیر سب دا بھلا
محمد افراہیم بٹ
العین جنوری ۲۰۱۲
![]()
