Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

نَفْس کا حِجاب

اوقاتِ خَلوَت میں

جب دَر و دیوار بھی خاموش ہوتے ہیں

اور رُوشنی تک سَہم جاتی ہے

نَفْس

جو دِن کے ہَنگاموں میں بےباک رہتا ہے

جو دوسروں پر پَردے چاک کرتا ہے

جو زَبان سے تیر بَرساتا ہے

وُہی نَفْس

اَکیلے لَمحَوں میں

اپنے آپ سے آنکھ نہیں مِلا پاتا۔

شَرم سے نَظریں جُھکا لیتا ہے

کسی مُجرِم کی طرح کانپتا ہے

جیسے اپنے ہی سَچ نے

اُسے بےنِقاب کر دِیا ہو۔

اِفری….

کیا یہ سَچ نہیں

کہ نَفْس دوسروں سے نہیں

سب سے پہلے،

خُود سے شَرماتا ہے؟
—–

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *