مُقدَّر میں تو نَہیں، کیا مَیں خُود سے ہارُوں؟
بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں یا خُود کو مارُوں؟
یہ وَقت کا کھیل ہے یا خواب کا پَردَہ؟
کیا مَیں رُک جاؤں یا آگے بَڑھُوں مردَہ؟
ہَر سانس میں اُمِّید کا چراغ جَلانا ہے،
اَندھیروں کو کاٹ کے رَوشنی بَنَانا ہے۔
مُقدَّر کا لِکھا تو بَہانَہ ہے صَدیوں سے،
اِنسَان نے راستَہ بَنایا ہے قَدموں سے۔
مَیں کیوں جُھکُوں؟ مَیں کیوں تھمُوں؟
جَب تک دَھڑَک رہا ہے دِل، کیوں نہ چَلوں؟
مَوت تو آ کے مِلے گی، وَقت کا فَرمَان ہے،
زِندگی جِیتنا ہی اَصل میں اِیمان ہے۔
مُقدَّر میں تو نَہیں، پَر اِرادَہ میرا ہے،
اَندھیروں کے بیچ بھی سورَج کا سَوَیرا ہے۔
![]()