دیوار اور میں
گاؤں کے ایک کچے مکان کے سامنے میں تنہا بیٹھا تھا۔ وہ مکان اب بھی وقت کے تھپیڑوں کے باوجود قائم تھا۔ میرے سامنے مٹی کی دیوار کھڑی تھی، خاموش مگر اپنے اندر کئی صدیاں چھپائے ہوئے۔ میں نے اس کی سطح پر ہاتھ رکھا تو یوں لگا جیسے یہ سانس لے رہی ہو۔
میں: “اے دیوار! تجھے دیکھتے ہی لگتا ہے جیسے تیرے اندر کتنی زندگیاں قید ہیں، اور کتنی کہانیاں دبی ہوئی ہیں۔”
دیوار (آہستہ آہستہ): “میں صرف دیوار نہیں، میں زمین کی تاریخ ہوں۔ میرے اندر وہ مٹی ہے جو دریاؤں سے بہہ کر آئی، اور وہ بھی جس میں انسان دفن ہوئے۔ میرے ذرے قبروں کے کٹاؤ سے نکلے اور کھیتوں کی جڑوں سے لپٹے ہیں۔ میں مٹی اور موت دونوں کی امانت ہوں۔”
میری سانس رک گئی۔ ایک سرد لہر میرے جسم سے گزر گئی۔
میں: “تو اس لیے تجھ میں پکی اینٹیں نہیں جمتیں؟ تو کیوں بار بار ٹوٹ جاتی ہے؟”
دیوار (گہری سانس کے ساتھ): “کیونکہ میں کسی ایک زمین سے نہیں بنی۔ میرا وجود مختلف مٹیوں کا قرض ہے۔ قریبی گاؤں کے قبرستان سے بہہ کر آنے والی مٹی بھی مجھ میں شامل ہے۔ بتا، کیا قبر کی مٹی سے اینٹیں پکتی ہیں؟ نہیں! وہ تو بار بار بکھرتی ہے تاکہ انسان کو یاد دلائے کہ کوئی وجود مستقل نہیں۔”
میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دیوار کی سب لکیریں جیسے مجھ سے ہم کلام ہونے لگیں۔
میں: “پھر کیا تو ہمیشہ یوں ہی بکھرتی رہے گی؟”
دیوار (مدھم مسکراہٹ کے ساتھ): “ہاں، مگر یہ بکھرنا فنا نہیں۔ ہر بار میں مٹی بن کر دوبارہ اٹھتی ہوں۔ کبھی کھیتوں میں، کبھی گارے میں، اور کبھی کسی نئی دیوار میں۔ انسان بھی میرے جیسا ہے— وہ بھی ہر لمحہ بکھرتا ہے اور ہر بار نئی شکل میں جڑ جاتا ہے۔”
میرا دل دھڑکا۔ یوں لگا جیسے دیوار مجھے اپنے اندر کھینچ رہی ہے۔ اچانک بارش برسنے لگی۔ میرے آنسو بارش کے قطروں میں مل گئے، اور دیوار کی مٹی نرم ہو کر میرے گرد لپٹنے لگی۔
دیوار (سرگوشی میں): “اب تو بھی میری دیوار کا حصہ ہے۔ وقت تجھے بھی چن لے گا۔”
میں خاموشی سے خود کو دیوار میں جذب ہوتا محسوس کرنے لگا، جیسے میرا وجود بھی انہی بکھری ہوئی روحوں کے قافلے میں
شامل ہوگیا ہو۔
محمد افراہیم بٹ۔
![]()


