Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

نظم

خٰاموش نظم اردو

نِکلے تھے ہم گاؤں سے رُسوا خٰاموش گَلی وِیران، بَند تھا اُس کا دَروازَہ خٰاموش تیرے عارِض کے حَوالے لِکھتے رَہے سَدا تُو بولتا نَہیں ہے، بَس ہے کیوں تَکتا خٰاموش راستے سَب سُنسان، سَایہ بھی ہِچکچَا گیا دَرختوں کے…

Loading

نظم

خَاموش نظم فارسی

بِدِه رُسوا شدیم و زِ جان خَاموش دَر و کُوچه بُبود و نِشان خَاموش بَرِ رُویم نِگارِ تُو نوشتیم ما تُو نَگفتی سُخَن، بَس چرا تَکتا خَاموش؟ هَمه راه و کُوچه شُد از غُبار بَرگ و سَایه زِ بیمِ هَوا…

Loading

بَس ٹھاہ

ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ راستے میں اندھیرا چھا جائے رُوشنی کا دِیآ بھی بُجھ جائے حَوصلے کو نَہ دینا کمزُوری ساتھ دِل کے رہے گا یہ راہ ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ…

Loading

ہمیں اپنے ہونے کا راز بَتاتا ہے

ہر قَدَم پہ دُکھ کا سایَہ ساتھ رہتا ہے ہَوا کے جُھوںکے بھی رازِ دِل کے سَںبھالتے ہیں راستوں میں بھٹکتے ہیں خواب او آرزو کے پھُولوں کی خُوشبُو بھی کبھی ہمیں ڈَراتی ہے کبھی ہَس کے گُزرتے ہیں لَمحَے…

Loading

نظم

لُغَتِ حَیات

“لُغَتِ حَیات میں بے وَفائی کا کوئی صَفحہ نہیں” کیونکہ عِشق، لُغَتوں کا پابَند نہیں ہوتا اور وَفا، لَفظوں میں نہیں — اِرادے میں سانَس لیتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں، کوئی گیا، کوئی چھُوٹا، کوئی بَدَل گیا پَر میں کہتا…

Loading

نظم

غُربت کے لِبادے

کبھی سوچا ہے؟ غُربت کِتنے لِبادے اوڑھ کر ہمارے اَردگِرد پِھرتی ہے؟ کبھی وُہ مَیلی قَمیص میں اُس بَچّے کی صُورت، جو اِسکول کی بَجائے ٹائر چمکاتا ہے۔ کبھی وہ ماں ہے، جو دال میں پانی بَڑھا کر خُود بھُوکی…

Loading

نظم

رات سے پہلے

رات سے پہلے اِک دِل تڑپتا ہے خوابوں کے سَرد کَمرے میں پُرانے رَستوں کی گَرد لیے اِک تھکا ہارا مَوسم آنکھوں میں اُتر آتا ہے۔ وُہ دِل جو ہر رات ساری دُنیا کے غَم روتا ہے کبھی ایک بُوند…

Loading

نظم

سلام اُس دِل پر

سلام اُس دِل پہ جو ہر شَب، بےزَباں، خاموش ہے دَرد کی پَرچھائیّاں، جِس کے لَہُو میں خَیمہ زَن۔ نِیند کی دَہلیز پر جب خواب سائے بان ہوں وُہ تَڑپتا ہے اَکیلا، جَیسے ہو کوئی شِکن۔ بَںد کھِڑکی، بَںد دَر،…

Loading

نظم

یادوں کا زَہْر

دِل میں کوئی خَلِش سی رُکی ہے کسی کی کمی آج پھر چُب گئی ہے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، مگر لَبوں پہ اِک پَردہ سا پڑا ہے۔ دِل چاہتا ہے سُناؤں وُہ قِصَّہ جو دِن بھر دِل میں جَلا…

Loading

نظم

جَذباتِ گَروی

میرے سارے جَذبے گَروی تھے کسی اور کے خوابوں کے عِوَض حَوصلے، نَعرے سب مُستَعار تھے جیسے میں جیتا رہا کسی اور کی لِکھی ہوئی کہانی میں۔ میرے لَفظوں میں میری صَدا نہ تھی میرے فیصلوں پر کسی اور کی…

Loading