اکیلا نہ جلتا۔
محبت کے دعوے… سچے ہوں گے شاید،مگر اگر اسے میری خبر ہوتی،تو رات کے ہجر میںچاند اور میرا دلاکیلا نہ جلتا۔ فاصلوں کے دریا کیوں بہے؟کیوں ہر لفظ سے ایک دیوار اٹھتی رہی؟اگر دلوں میں رہنے کی تمنا تھیتو قدم…
![]()
بارہ من کی دھوبن -2
بارہ من کی دھوبن کانے سے کٹی تھی قلم کی کہانیدواتِ سیاہی میں ڈوبی نشانی وہ لفظوں کی خوشبو، وہ قرطاس کا خوابکہ پہنچا تھا دفتر تلک، باب در باب تین پہیوں کی ننھی سواری سے ابتداپہنچی موٹر کاروں کی…
![]()
بارہ من کی دھوبن
بارہ من کی دھوبن کانے سے کٹی قلم، دواتِ سیاہی تکپہنچی ہوئی ہے بات، برانڈڈ قلم گواہی تک تین پہیوں کی معصوم سواری سے شروع ہواموٹر بائیک، موٹر کار، شان و جاہی تک گھر کی دہلیز سے سفر ہوا نگاہوں…
![]()
خاموش آواز
خاموش آواز مَیں بولتا نہیں،مَگر لَفظ میرے اَندر سانَس لیتے ہیں۔میری تَحریر —اِک خاموش چیخ ہے،جِسے صِرف وَہی سُن سکتا ہےجو خُود سے کَبی مُخاطَب ہوا ہو۔ قَلَم؟یہ میرا ہاتھ نہیں،یہ اِک دَریا ہےجو میری رَگوں میں بَہتا ہےاور کاغَذ…
![]()
نَظَرِیَّہءِ سُکون
نَظَرِیَّہءِ سُکون مَیں نے کُچھ راستے چھوڑ دِیے کُچھ لوگ، کُچھ قِصّے بھی کہ جِن میں شور بَہُت تھا اور دِل کی نِیںد ٹُوٹی تھی نہ وُہ ہار تھی، نہ جِیت کا کھیل یہ صِرف بَچاؤ تھا — خود سے،…
![]()
اللہ ہی کافی ہے
اِک اُداسی بَسی ہُوئی ہے خَستہ بَدَن میں، مَگر اُمّید کا چِراغ اَب بھی جَلتا باقی ہے۔ اَںدھیروں میں ڈھوںڈتا ہُوں روشنی کا پَتا، یَقین کی لَو سے دِل کا راستَہ باقی ہے۔ ہزار بار گِرا ہُوں میں تھَکن کے…
![]()
ترانۂِ حَیات
جَہاں بھی لے چَلے تَجھے یہ دُنیا، مَت وہاں جانا خُدی کی راہ پر چَلنا، یہ رَستَہ ہے، یہِی مانا نہ حالاتِ جَہاں کی دھَار پر خُود کو بَہَا دینا قَدَم اپنی سَمْت رکھنا، ہے یہِی جینے کا تَرانَہ ہَمیشۂ…
![]()
ڈر جاتا ہوں۔
سبحان ہے وہ ذات جس نے میرے دل میں دو ضدّوں کو جمع کر دیا،انتہائی شجاعت کو بھی اور انتہائی بزدلی کو بھی۔ میں بھیڑیے کی گھورتی آنکھوں سے نہیں ڈرتا جو مجھے تاک رہا ہوتا ہے،لیکن اُس ہرنی جیسی…
![]()
وارِث ہوا کرتے ہیں۔ نظم
رات کی خاموشیوں میں جو آہستہ قدم رکھتے ہیں وُہ صدیوں کے بھَید جاننے والے ہوا کرتے ہیں۔ جو ہونٹوں پر الفاظ نَہ لائیں، مگر دل کی آواز سُنیں وُہ خاموش نغمَہ ساز ہوا کرتے ہیں۔ گلوں کے موسم میں…
![]()
دام جا بِجا ہیں نظم
بِچھے فَریب کے دام جا بِجا ہیں لَمحاتِ کَرب کُچھ ایسے رَوا ہیں چَہرے پر مُسکان، دِل میں دُھوکہ ہَر خُوشی میں دَرد کا سایَہ رَوا ہیں راہِ صَبر طَویل، مَنزِل نَظَر میں نَہیں ہَر قَدَم پر کانٹے، ہَر لَمحَہ…
![]()