Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

نظم

نَفْس کا حِجاب

اوقاتِ خَلوَت میں جب دَر و دیوار بھی خاموش ہوتے ہیں اور رُوشنی تک سَہم جاتی ہے نَفْس جو دِن کے ہَنگاموں میں بےباک رہتا ہے جو دوسروں پر پَردے چاک کرتا ہے جو زَبان سے تیر بَرساتا ہے وُہی…

Loading

نظم

سجدہ اُس کو

چاند تمہارے آنگن میں اترتا ہے مگر وہ تمہارے دُکھ نہیں جانتا۔ سورج تمہیں گرمی دیتا ہے مگر وہ تمہارے دل کی سردی نہیں پگھلا سکتا۔ تو کیوں جھکتا ہے اُس کے سامنے جو خود روشنی کا محتاج ہے؟ کیوں…

Loading

نظم

آنکھیں: خاموش دَروازے

آنکھیں وُہ حَرف نہیں کہے ہوئے جو دِل کی دیوار پر خُودبَخُود لِکھے جاتے ہیں۔ کبھی وُہ ایک جھیل ہوتی ہیں اِتنی پُرسُکون کہ وَقت بھی اِن پر ساکت ٹھَہر جائے اور اِتنی گہری کہ خُود روشنی بھی اپنا عَکس…

Loading

نظم

زبان اور زَخْم

زَبان؟یہ فَقَط گوشت کا ٹُکڑا نہیںیہ آئینہ ہے جِس میں پورا اِنسان چُھپا ہوتا ہے۔ کسی دِنجب لَفظ تُمہارے قابُو میں نہ رہیںتو یاد رکھنازَخْم ہمیشہ ہاتھ سے نہیںزَبان سے لگتا ہے۔ پرِندے پَرَوں سے نہیںپھنسے ہوتے دام میںوہ اپنے ہی…

Loading

نظم

مِثْلِ مُسافِر ہیں سَرِ راہ گُزار

دُنیا ہے مِثْلِ شَجَرِ سَایَہ‌دار مِثْلِ مُسافِر ہیں سَرِ راہ گُزار چَنْد ہی گھڑِیاں مِلیں، رَہْنا ہے ہوشیار اَصْل سَفَر آخِری مَنْزِل کا ہے دَرکار یہ دُنیا ہے خواب کی مَانِند ایک بَہار گُذَر ہی جانا ہے یہاں ہَر ایک…

Loading

نظم

صَبْر ہی سَبْ سے طاقتوَر ہے

صَبْر ہی سَبْ سے طاقتوَر ہے اَگَر تُم ٹھَہْرو، تو دِن مار دیں گے، اَگَر تُم جُھکو، غَم نِگَل جائیں گے۔ مَگَر صَبْر وُہ قُوَّتِ جاوِداں ہے، کہ طوفان آ کر بھی مَر جائیں گے۔ یہ صَبْر ہی ہے جو…

Loading

نظم

صَبْر ہی سَبْ سے طاقَتوَر ہے

صَبْر ہی سَبْ سے طاقَتوَر ہے اِگَر تُم تھَم جاؤدِن تُمھیں رَوْند ڈالیں گےوَقْت اَپنے پَہیّوں تَلَےتُمھارے خْواب کُچَل دے گا۔ اِگَر تُم خَامُوش ہو جاؤتو سُکُوت تُمھیں دَفْن کر دے گاتُمھاری آنْکھوں کی رَوْشَنیاَندھیروں میں کھو جائے گی۔ لَیکِن…

Loading

نظم

شیریں وصال

اور سب سے عظیم کلام وہ ہے جس سے خوش دل مسرور ہو جائے اور جس سے غمگین دل کو احساس کے ساتھ دلاسہ ملے۔ اور سب سے عظیم محبت وہ ہے جو تم نے خوف کے سبب چھپا رکھی…

Loading

نظم

تیرے لیے

تیری آنکھوں کے لیے میرے پاس ایک وعدہ ہےجسے میں پورا کروں گا اگر تو نے وفا کی۔کتنا قریب ہے وہ لمحہ، جب میری آنکھوں نےتیری آنکھوں کو دیکھا اور جھوٹ نہ بولا۔ تیری نگاہوں نے وہی نقشہ کھینچاجو ہرنی…

Loading

نظم

ماں کی دُعا

کَئی بار سوچا ہے، مائیں کَب مَرتی ہیں؟ اِتنا ضَرور ہے، پَردہ تو سَب کَرتی ہیں۔ ماں ایک سَلیقَہ ہے، جینے کا طریقَہ ہے، دُنیا میں بے ڈَھںگا کام کَب کَرتی ہیں؟ بَچے اگر بھُول بھی جائیں، گِلہ نہیں کَرتی،…

Loading