بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں
مُقدَّر میں تو نَہیں، کیا مَیں خُود سے ہارُوں؟ بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں یا خُود کو مارُوں؟ یہ وَقت کا کھیل ہے یا خواب کا پَردَہ؟ کیا مَیں رُک جاؤں یا آگے بَڑھُوں مردَہ؟ ہَر سانس میں اُمِّید کا چراغ…
![]()
مسافر اپنی منزل کے – نظم
لڑ رہے ہیں رہ میں ہی کیوں یہ سب افری ہیں گر سارے مسافر اپنی منزل کے آزادی کے نشان لئے ہم چل پڑے ہیں کٹھن راہوں میں خون کے رنگ بھی سہتے ہیں ظلم کی زنجیر ٹوٹ جائے گی…
![]()
ایک نیا آغاز (خود کلامی)
ایک نیا آغاز کسی کے آنے کا مت انتظار کرو کہ وہ تمہیں بچائے گا اُٹھو… چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی اپنی بکھری ہوئی دنیا سمیٹو چاہے خاموشی میں ہی سہی خود سے کہو: “میں قابل ہوں میں نیا آغاز…
![]()
پنڈ دی مَسِیت
پنڈ دی مَسِیت اَسِّی نِکّے جَیہے ہُوندِی٘اں پَن٘ڈ دِی پُرانِی مَسِیت وَل اَللّٰہ مِی٘اں دا گھر سَمَجھ خُوش ہو کے جان٘دے ساں او ہے شاہ رَگ تُوں نِی٘ڑے پَر گھر اوہدے جا جا کے اَپ٘نِی بھاجِی لاہن٘دے ساں نَعتاں، سَبَق،…
![]()
فکر کے دروازے
فکر کے دروازے جب فکر کے دروازے کھلیں تو آپ کا قلم خود بولنے لگے، الفاظ کے رنگ بکھیرنے لگیں۔ شوقِّ فن اپنا ذائقہ پیدا کرے ہر حرف میں خوشبو چھپ جائے اور سطریں، جیسے خواب کی راہ میں خود…
![]()
ایک نیا جہان تمہارا منتظر – نظم
ہر دل کے اندرایک ایسی دنیا بستی ہے جو حقیقت سے بھی بڑی ہے۔جہاں ایک ناول ہےایک کہانی ہےایک مسکراہٹ ہےایک آنسو ہےایک خبر ہےاور کئی راز چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ دنیانہ کسی کی آنکھ دیکھ سکتی ہے،نہ کوئی زبان…
![]()
بات کو مختصر کرو – نظم
آج کا قاری کہتا ہےبات کو مختصر کرو وہ کیا جانےکہ ساٹھ برس کی دھوپ چھاؤںساٹھ برس کی ہنسی اور آنسوساٹھ برس کی ہزیمت اور فتحکیسے سمٹ سکتی ہےچند لفظوں کی تنگ قید میں؟ زندگیایک لامتناہی کہانی ہےجہاں ہر دنایک…
![]()
خیالات اور حقیقت کی جستجو
ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا لیکن پھر بھی ہم…
![]()







