Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

نظم

بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں

مُقدَّر میں تو نَہیں، کیا مَیں خُود سے ہارُوں؟ بُڑھاپا سوچ کے بَیٹھُوں یا خُود کو مارُوں؟ یہ وَقت کا کھیل ہے یا خواب کا پَردَہ؟ کیا مَیں رُک جاؤں یا آگے بَڑھُوں مردَہ؟ ہَر سانس میں اُمِّید کا چراغ…

Loading

نظم

مسافر اپنی منزل کے – نظم

لڑ رہے ہیں رہ میں ہی کیوں یہ سب افری ہیں گر سارے مسافر اپنی منزل کے آزادی کے نشان لئے ہم چل پڑے ہیں کٹھن راہوں میں خون کے رنگ بھی سہتے ہیں ظلم کی زنجیر ٹوٹ جائے گی…

Loading

ایک نیا آغاز (خود کلامی)

ایک نیا آغاز کسی کے آنے کا مت انتظار کرو کہ وہ تمہیں بچائے گا اُٹھو… چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی اپنی بکھری ہوئی دنیا سمیٹو چاہے خاموشی میں ہی سہی خود سے کہو: “میں قابل ہوں میں نیا آغاز…

Loading

پنڈ دی مَسِیت

پنڈ دی مَسِیت اَسِّی نِکّے جَیہے ہُوندِی٘اں پَن٘ڈ دِی پُرانِی مَسِیت وَل اَللّٰہ مِی٘اں دا گھر سَمَجھ خُوش ہو کے جان٘دے ساں او ہے شاہ رَگ تُوں نِی٘ڑے پَر گھر اوہدے جا جا کے اَپ٘نِی بھاجِی لاہن٘دے ساں نَعتاں، سَبَق،…

Loading

فکر کے دروازے

فکر کے دروازے جب فکر کے دروازے کھلیں تو آپ کا قلم خود بولنے لگے، الفاظ کے رنگ بکھیرنے لگیں۔ شوقِّ فن اپنا ذائقہ پیدا کرے ہر حرف میں خوشبو چھپ جائے اور سطریں، جیسے خواب کی راہ میں خود…

Loading

اک مشغلہ

اک مشغلہ کب سے یہ مشغلہ ہے میرا… روز ایک نیا کاغذ اُٹھاتا ہوں، جس پر ایک کہانی لکھتا ہوں نئی، پرانی، کچھ سنی، کچھ ان سنی… کبھی وہ ہنستی ہے میرے ساتھ، اور کبھی جیسے خاموش ہو کر میری…

Loading

ایک نیا جہان تمہارا منتظر – نظم

ہر دل کے اندرایک ایسی دنیا بستی ہے جو حقیقت سے بھی بڑی ہے۔جہاں ایک ناول ہےایک کہانی ہےایک مسکراہٹ ہےایک آنسو ہےایک خبر ہےاور کئی راز چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ دنیانہ کسی کی آنکھ دیکھ سکتی ہے،نہ کوئی زبان…

Loading

بات کو مختصر کرو – نظم

آج کا قاری کہتا ہےبات کو مختصر کرو وہ کیا جانےکہ ساٹھ برس کی دھوپ چھاؤںساٹھ برس کی ہنسی اور آنسوساٹھ برس کی ہزیمت اور فتحکیسے سمٹ سکتی ہےچند لفظوں کی تنگ قید میں؟ زندگیایک لامتناہی کہانی ہےجہاں ہر دنایک…

Loading

فاخِتہ

فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…

Loading

خیالات اور حقیقت کی جستجو

ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا لیکن پھر بھی ہم…

Loading