Kheyal Darya

A mound of thoughts

parents

فاخِتہ

فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…

Loading

حکایت11 : اصل سہارا

اصل سہارا ایک درویش بزرگ کی محفل میں ایک نوجوان آیا۔ اس کے چہرے پر غم کے سائے تھے اور دل بوجھل تھا۔:نوجوان نے کہاحضرت! ہر طرف سے میرے راستے بند ہو گئے ہیں۔ دوست ساتھ چھوڑ گئے، رزق کی…

Loading

حکایت 10: الفاظ کے دھوکے

“جو تمہیں آج  کے دن گرا دے، وہ کل تمہیں سہارا نہیں دے گا، الفاظ کے دھوکے میں مت آؤ۔” دوسرے معنوں میں  اعمال الفاظ سے زیادہ سچے ہوتے ہیں، اور جس نے ایک بار تمہیں گرنے دیا، اس پر…

Loading

خیالات اور حقیقت کی جستجو

ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا لیکن پھر بھی ہم…

Loading

سیڑھی اور سکون

سیڑھی اور سکون مدتوں سے یہ ٹوٹی پھوٹی سیڑھی میرے گھر میں سنبھال رکھی ہے جب کبھی بھی دل تھک جائے اور در و دیوار سے وحشت آنے لگے تب میں یہ سیڑھی لگاتا ہوں اور چھت کی طرف بڑھ…

Loading

Poem نظم

قرض

قرض — صرف رقم نہیں ہوتا قرض ہمیشہ روپیہ پیسہ نہیں ہوتا… کبھی یہ ایک نرم لہجہ ہوتا ہے جو دل کی ویرانی میں زندگی کی لَو جلا دیتا ہے۔ کبھی یہ ایک تسلی ہوتا ہے جو آنکھوں سے بہتے…

Loading

Poem نظم

المیہ

چلتے ہیں ہم، زندگی کی راہوں میں بےخبر نہ منزل کا پتہ ہے، نہ خود سے کوئی خبر بھاگتے ہیں ان چیزوں سے جو پہچانی نہیں ڈر لگتا ہے، مگر وجہ کچھ جانی نہیں کرتے ہیں سب کچھ جو فرض…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

أشک آنکھوں سے خواب دُھندلا دیتے ہیں تیری یادوں کے چراغوں کو جب ہوا دیتے ہیں تُم جو بِچھڑے تو کوئی رنگ نہ باقی رہا ہم تو ہر منظر کو اب سادہ سا بنا دیتے ہیں بَند آنکھوں میں تِری…

Loading

Poem نظم

پَردیسیوں کا دُکھ

تم نے پردیسیوں کے چہروں کی مسکراہٹیں تو دیکھی ہیں مگر اُن کی ادھوری نیندیں، بے خواب آنکھیں نہیں دیکھیں دھوپ میں جلتے خواب، پسینے سے شرابور ماتھے ان کے قدموں کے چھالے، بیابان راتیں نہیں دیکھیں عجیب ساحلوں پر…

Loading

Poem نظم

رُوح کو شرافت مِلے

دِل کی پاکیزگی سے سوچ کو وضاحت مِلےسوچ جب صاف ہو تو رُوح کو شرافت مِلے رُوح کی روشنی سے اَخلاق سنورتے ہیںکردار کی خوشبُو سے دِل بھی مہک اُٹھتے ہیں۔ دینا چاہو تو نہ دیکھو کبھی حالات کوکنجُوسی دِل…

Loading