دِل میں کوئی خَلِش سی رُکی ہے
کسی کی کمی آج پھر چُب گئی ہے
میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، مگر لَبوں پہ
اِک پَردہ سا پڑا ہے۔
دِل چاہتا ہے سُناؤں وُہ قِصَّہ
جو دِن بھر دِل میں جَلا ہے
کَہوں کہ آج بارِش ہوئی تھی
اور دِل نے تُجھے ہر بُوںد میں صَدا دی
پر زَبان پھر بھی رُکی ہے۔
ہاتھ میں فون ہے، نَمبر بھی مَحفُوظ ہے
دِل میں اُمید کا چِراغ بھی رُوشن
مگر ہاتھ خُود ہی جُھکا ہے۔
کاش! میں پُوچھ پاتا: “تُم کیسے ہو؟”
کاش! تُم سُنتے جو کچھ دِل نے سَہَا ہے
مگر ہر بار اِک سایا سا کہتا ہے
“چھوڑ دے، وُہ جا چُکا ہے…”
میں خاموش ہو جاتا ہوں
کیونکہ ہر بار، ہر لَمحہ
یہی لگا جَیسے وُہ مَر چُکا ہے
….
اِفری
![]()
