Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

دیارِ غیر سے

قسط -۱
موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں جنابِ اقبال کے تصور کو قایٔد اعظم نے پاکستان بنا تو دیا ۔ چند مخلص لوگوں کے ساتھ مگر پھر بعد والو.ں نے اس کا کیا حال کیا۔ کند و بیمار۔ ملا و سراب شخصیات نے نظریے سے بھٹکا دیا۔

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاعِ کردار
بحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفات

ان کو پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ (چوں می گویٔم مسلمانم….) کا ادراک اور لاکھوں قربانیوں کا درد ہی محسوس نہیں ہوتا یوں ان بونے لوگوں نے خود کو مسندِ اقدار کے لیٔے علاقیت اور اسلام دشمنوں کے حلیف بن کر پاکستان کو اسلام کی تجربہ اور قلعہ بننے سے دور کر رکھا ہے۔ پھر ایک طرف مغرب ذدہ اذہان تو دوسری طرف ملایٔت اور پیر کی صورت کوتاہ بین ذمانے کی نبض سے نا آشنا ریشمی کیڑے کی طرح اپنے بنے خول میں بند۔ انہوں نے ہماری نسلوں کو ہی کنفیوز کر رکھا ہے ۔

پھر اس کنفیوزن کو لبرل طبقہ جو دولت و شہرت کے ہوس میں پاکستان مخالف قوتوں کا آلہ کار بنے ہوۓ ہیں۔ ۔۔
بقولِ اقبال
اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا داراو جم!
دل کی آذادی شہنشاہی۔ شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟
اے مسلمان! اپنے دل سے پوچھ. مُلّا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم؟
میڈیااور ٹاک شو ز دیکھ لیں آپ کو پاکستان اور اسلام سے ہی بیگانگی ہونے لگےگی۔ پارلیمنٹ کے اندر براجمان اور ہاہر چنگھاڑتے راہنما چاہے داڑھی والے ہوں یا بغیر داڑھی اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ ایمان پہ شک ہونے لگتا ہے۔ اور پھر اسے سیاست کہتے ہیں جبکہ اللہ سورہ الصّف میں ایمان والوں کی الگ پہچان بتاتا ہے۔

آپ ہی بتایٔیں اگر حضرت اقبال کی تجویز کردہ ریاست بن جانے کے بعد بھی اس کی اصل تکمیل سے کوسوں میل دور ہے جبھی ہر سیاستدان قومی سطح ہہ ووٹ بٹورنے کو پاکستان کو اقبال اور محمد علی جناح کا پاکستان بنانے کا نعرہ لگاتا ہے۔جلسہ۔ پارلیمنٹ۔ کانفرنس اور جلوس کی زبان الگ الگ بیکار و بیمار ذہین سر کٹے مرغے کی طرح بھاگ رہے ہیں مگر جانا کہاں ہے؟ ایسوں کے لیٔے میں سراب قیادتیں کہتا ہوں جن کے پاس کویٔی متعین حل یا منزل نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ بلند نگاہی ہے نہ سخن دلنوازی تو جان کہاں پرسوز ہو گی۔

لوگ آج بھی اقبال اور محمد علی جناح کے صدق کے حامی اور محبت کرتے ہیں اور پاکستان کو ویسا بنانے کے وعدہ پہ تالیاں بجاتے ہیں مگر اس کی اصل فلاسفی سے نا واقفیت اور مردم نا شناسی دیر کی وجہ قافلے کا راہ سے ہٹ جانا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہر ایک گلہ کرتا ہے بشمول جہلم میں بزاز انکل شریف جو پٹیالہ سے لڑکپن میں کیٔی دنوں کا پیدل
سفر کر کے پہنچے بتانے لگے بتایا جاتا تھا “پاکستان اسلامی فلاحی ریاست یوگی اسلام کا قانون ہو گا اور کویٔی بھوکھا نہیں سوۓ گا” پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر بتانے لگے ًیہاں تو کچھ اور ہی ہو رہا ہے”

ہرچند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہوبیاباں سے حُدی خوان کدھر جاۓ
اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد
آیات الہی کا نگہبان کدھر جاۓ

اب میرا نوحہ ہے اقبال ہمیں مایوس نہیں ہونے دیتے اور مٹی کے نم ہونے کا ذکر کرتے ہیں جبکہ سراب قیادتیں ” جمھوریت” کی دوا ڈال کر شوریدہ یا کلری کر رہے ہیں۔ چلیں جمھوری نظام ہی سہی لیکن اہلِ وطن کو پاکستان کی اساس سے تو واقف کرایٔیں۔ اقبال اور قایٔد کے فرمودات کو پڑھیں تو پاکستان مرکز سے دور دکھے گا۔

کلامِ اقبال عام لوگوں اور اپنے پڑوسی ممالک میں موجودہ ذرایٔع سے پہنچا کر پاکستان کو اعلی مقام دلا اور بنا سکتے ہیں۔ ہمارے اردو فارسی گانے والے اردگرد سازگار ماحول بنا سکتے ہیں۔ عاطف اسلم۔ راحت فتح علی خان اور دوسرے فنکاروں کو دعوت دیں کہ وہ کلامِ اقبال پڑھیں ان کی ملین میں فینز ہیں برصغیر اور فارس اور سابق روسی ریاستوں ۔ یوں اردگرد کے ماحول کو سازگار بنا یا جاۓ۔ پاکستان سے محبت اور دلچسپی اس کی تکمیل میں ممد معاون ہو گی۔
محمد افراہیم بٹ۔
العین مارچ ۲۰۱۸

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *