Kheyal Darya

A mound of thoughts

Pakistan

Motivational

Chaos Predicting the Unpredictable

In his article “Chaos–predicting the unpredictable”, W. J. Firth discusses the implications of chaos theory for medicine. He argues that chaos theory shows that predictability is the exception rather than the rule, even for what seem like simple physical systems….

غزل

پَردیس میں رُوزی، سَر چُھپانے کو ٹھِکانے ڈھوںڈتا رہا زَہریلا ناگ دیس میں، میرے گھر میں خَزانِے ڈھوںڈتا رہا مَیں اُس کی دَہلیز پر اَپنا آخِری خَط چھوڑ آیا تھا وُہ شَہر کو بَتانے کے لِیے فَسانے ڈھوںڈتا رہا جِن…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

کِیا ہوتا ہے مَیں ہوں کہ تُم ہواپنے ہیں سب ہی، خُوشی ہو یا غَم ہو یادوں کی خُوشبُو ہے سانسوں کے ساتھخوابوں کے موسِم میں چاہَت کا نَم ہو دُنیا کے رَستے بَدَلتے رہیں گےمگر دِل کی رَہ میں…

Loading

فاخِتہ

فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…

Loading

حکایت11 : اصل سہارا

اصل سہارا ایک درویش بزرگ کی محفل میں ایک نوجوان آیا۔ اس کے چہرے پر غم کے سائے تھے اور دل بوجھل تھا۔:نوجوان نے کہاحضرت! ہر طرف سے میرے راستے بند ہو گئے ہیں۔ دوست ساتھ چھوڑ گئے، رزق کی…

Loading

حکایت 10: الفاظ کے دھوکے

“جو تمہیں آج  کے دن گرا دے، وہ کل تمہیں سہارا نہیں دے گا، الفاظ کے دھوکے میں مت آؤ۔” دوسرے معنوں میں  اعمال الفاظ سے زیادہ سچے ہوتے ہیں، اور جس نے ایک بار تمہیں گرنے دیا، اس پر…

Loading

خیالات اور حقیقت کی جستجو

ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا لیکن پھر بھی ہم…

Loading

سیڑھی اور سکون

سیڑھی اور سکون مدتوں سے یہ ٹوٹی پھوٹی سیڑھی میرے گھر میں سنبھال رکھی ہے جب کبھی بھی دل تھک جائے اور در و دیوار سے وحشت آنے لگے تب میں یہ سیڑھی لگاتا ہوں اور چھت کی طرف بڑھ…

Loading

Poem نظم

قرض

قرض — صرف رقم نہیں ہوتا قرض ہمیشہ روپیہ پیسہ نہیں ہوتا… کبھی یہ ایک نرم لہجہ ہوتا ہے جو دل کی ویرانی میں زندگی کی لَو جلا دیتا ہے۔ کبھی یہ ایک تسلی ہوتا ہے جو آنکھوں سے بہتے…

Loading

Poem نظم

المیہ

چلتے ہیں ہم، زندگی کی راہوں میں بےخبر نہ منزل کا پتہ ہے، نہ خود سے کوئی خبر بھاگتے ہیں ان چیزوں سے جو پہچانی نہیں ڈر لگتا ہے، مگر وجہ کچھ جانی نہیں کرتے ہیں سب کچھ جو فرض…

Loading