Kheyal Darya

A mound of thoughts

Latest post

نظم

اگر وُہ مِیری خَبَر رَکھتی

اگر وُہ مِیری خَبَر رَکھتی مُحَبَّت کے دَعوے، اِگر سَچ بھی ہوںتو دِل میں اگر اُس کی پَرچھائیں ہوںتو پِھر دَرمِیاں یہ فَصیلیں کیوں ہوں؟یہ رَستے، یہ دیوار، یہ خامُشی؟ اگر اُس کو مِیری خَبَر کُچھ بھی تھیتو ہِجران کی…

Loading

نظم

اکیلا نہ جلتا۔

محبت کے دعوے… سچے ہوں گے شاید،مگر اگر اسے میری خبر ہوتی،تو رات کے ہجر میںچاند اور میرا دلاکیلا نہ جلتا۔ فاصلوں کے دریا کیوں بہے؟کیوں ہر لفظ سے ایک دیوار اٹھتی رہی؟اگر دلوں میں رہنے کی تمنا تھیتو قدم…

Loading

حمد

دُعا

اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهِبْ الْبَاسَ اشْفِي أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَما ‏اللهم إن ضعُفت الأجسام فأنت القويّ وإن اشتد المرض فأنت الشافي، يا من يعيد للمريض صحته، ويا من يستجيب دعاء البائس الضعيف اللهم أنزل…

Loading

کافیاں اور صوفی کلام

حضورِ رسالت مآبؐ میں شاعر: محمد اقبال رح

حضورِ رسالت مآبؐ میں گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا قیودِ شام و سحَر میں بسر تو کی لیکن نظامِ کُہنۂ عالم سے آشنا نہ ہُوا فرشتے بزمِ رسالتؐ میں…

Loading

کافیاں اور صوفی کلام

اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں زُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دو وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو…

Loading

نظم

بارہ من کی دھوبن -2

بارہ من کی دھوبن کانے سے کٹی تھی قلم کی کہانیدواتِ سیاہی میں ڈوبی نشانی وہ لفظوں کی خوشبو، وہ قرطاس کا خوابکہ پہنچا تھا دفتر تلک، باب در باب تین پہیوں کی ننھی سواری سے ابتداپہنچی موٹر کاروں کی…

Loading

نظم

بارہ من کی دھوبن

بارہ من کی دھوبن کانے سے کٹی قلم، دواتِ سیاہی تکپہنچی ہوئی ہے بات، برانڈڈ قلم گواہی تک تین پہیوں کی معصوم سواری سے شروع ہواموٹر بائیک، موٹر کار، شان و جاہی تک گھر کی دہلیز سے سفر ہوا نگاہوں…

Loading

غزلیات

بے سُکون رہتا ہے

سلاماً على قلبٍ يتألم قبل المنام، ويبكي بكاء العالم ولم يشعر به أحد سَلام اُس دِل پِہ جو ہر شَب بے سُکون رہتا ہے خَاب آتے ہیں مگر آنکھوں میں خُوں رہتا ہے وُہ جو سَب ہَسْتے ہُوئے چہْروں کو…

Loading

نظم

خاموش آواز

خاموش آواز مَیں بولتا نہیں،مَگر لَفظ میرے اَندر سانَس لیتے ہیں۔میری تَحریر —اِک خاموش چیخ ہے،جِسے صِرف وَہی سُن سکتا ہےجو خُود سے کَبی مُخاطَب ہوا ہو۔ قَلَم؟یہ میرا ہاتھ نہیں،یہ اِک دَریا ہےجو میری رَگوں میں بَہتا ہےاور کاغَذ…

Loading

نظم

نَظَرِیَّہءِ سُکون

نَظَرِیَّہءِ سُکون مَیں نے کُچھ راستے چھوڑ دِیے کُچھ لوگ، کُچھ قِصّے بھی کہ جِن میں شور بَہُت تھا اور دِل کی نِیںد ٹُوٹی تھی نہ وُہ ہار تھی، نہ جِیت کا کھیل یہ صِرف بَچاؤ تھا — خود سے،…

Loading