نعمتِ نظر، ادراکِ دل اور حقیقت کو دیکھنے کا ہنر
آنکھوں کے بالکل سامنے نعمتِ نظر، ادراکِ دل اور حقیقت کو دیکھنے کا ہنر بچپن میں دوسری جماعت کا ایک مختصر سا جملہ تھا: “آنکھوں والو، آنکھوں کی قدر کرو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں!” اُس وقت یہ ایک سادہ سی…
![]()
Steadfast Loyalty وفا شعاری
تُم ہمیشہ اپنے ہی رہے — یہ بات اتنی سَچّ ہے کہ دِل سے نِکالنا آسان نہیں۔ میں نے سِیکھا ہے کہ کسی کو بےگھر نہیں چھوڑنا؛ چاہے وُہ دُشمن ہی کیوں نَہ ہو، اِنسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی…
![]()
انسان کی زندگی ایک ریل گاڑی
انسان کی زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ایک ہی سمت میں چلتی ہے اور کبھی واپس نہیں آتی۔ اپنی اس سفر میں وہ دشمن اور دوست، دکھ اور امید، نفرت اور محبت، آنسو اور خوشی، ملاقات اور…
![]()
تم مجھے یاد کرو گے
تم مجھے یاد کرو گے کیونکہ میں تمہاری محبوبہ نہیں تھی؛تمہارے کئی محبوب ہیںاور میں تمہاری دوست نہیں تھی؛تمہارے کئی دوست ہیں۔ پھر جاننا چاہتے ہو، میں کون تھی؟،میں تمہارے لیے ماں تھی،تمہارے لیے آغوش تھیتمہیں وہ پیار دوبارہ نہیں ملے…
![]()
اللہ ہی کافی ہے
اِک اُداسی بَسی ہُوئی ہے خَستہ بَدَن میں، مَگر اُمّید کا چِراغ اَب بھی جَلتا باقی ہے۔ اَںدھیروں میں ڈھوںڈتا ہُوں روشنی کا پَتا، یَقین کی لَو سے دِل کا راستَہ باقی ہے۔ ہزار بار گِرا ہُوں میں تھَکن کے…
![]()
ترانۂِ حَیات
جَہاں بھی لے چَلے تَجھے یہ دُنیا، مَت وہاں جانا خُدی کی راہ پر چَلنا، یہ رَستَہ ہے، یہِی مانا نہ حالاتِ جَہاں کی دھَار پر خُود کو بَہَا دینا قَدَم اپنی سَمْت رکھنا، ہے یہِی جینے کا تَرانَہ ہَمیشۂ…
![]()
دام جا بِجا ہیں نظم
بِچھے فَریب کے دام جا بِجا ہیں لَمحاتِ کَرب کُچھ ایسے رَوا ہیں چَہرے پر مُسکان، دِل میں دُھوکہ ہَر خُوشی میں دَرد کا سایَہ رَوا ہیں راہِ صَبر طَویل، مَنزِل نَظَر میں نَہیں ہَر قَدَم پر کانٹے، ہَر لَمحَہ…
![]()
خٰاموش نظم اردو
نِکلے تھے ہم گاؤں سے رُسوا خٰاموش گَلی وِیران، بَند تھا اُس کا دَروازَہ خٰاموش تیرے عارِض کے حَوالے لِکھتے رَہے سَدا تُو بولتا نَہیں ہے، بَس ہے کیوں تَکتا خٰاموش راستے سَب سُنسان، سَایہ بھی ہِچکچَا گیا دَرختوں کے…
![]()
خَاموش نظم فارسی
بِدِه رُسوا شدیم و زِ جان خَاموش دَر و کُوچه بُبود و نِشان خَاموش بَرِ رُویم نِگارِ تُو نوشتیم ما تُو نَگفتی سُخَن، بَس چرا تَکتا خَاموش؟ هَمه راه و کُوچه شُد از غُبار بَرگ و سَایه زِ بیمِ هَوا…
![]()
غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع
غیبت، جھوٹ اور لغو باتوں سے منع انسانی معاشرے آپسی طے شدہ اصولوں اور اقدار کے بَل بوتے پر ترقی کرتی ہیں اس کے برعکس اِن سے انحراف بد امنی ، فساد اور خطوات شیطان کی پیروی کا باعث ہوتا…
![]()