Kheyal Darya

A mound of thoughts

Latest post

رنگ Colours

رنگ صرف روشنی کا عکس نہیں ہیںبلکہ یہ روح کی سانسیں ہیں اور وہ خاموش آوازیں ہیں جو وہ بیان کرتی ہیں جو الفاظ نہیں کہہ پاتے۔یہ فطرت کی قدیم زبان ہے جس سے ہم نے سیکھا کہگلاب سرخی کے…

Loading

بات کو مختصر کرو – نظم

آج کا قاری کہتا ہےبات کو مختصر کرو وہ کیا جانےکہ ساٹھ برس کی دھوپ چھاؤںساٹھ برس کی ہنسی اور آنسوساٹھ برس کی ہزیمت اور فتحکیسے سمٹ سکتی ہےچند لفظوں کی تنگ قید میں؟ زندگیایک لامتناہی کہانی ہےجہاں ہر دنایک…

Loading

غزل

کر لی تَرَقِّی بَہُت، بَدلَا ہُوَا گَھر رَہ گیا ہے پُوچھنَا تھا، کیا دالآن کا گھَنا شَجَر رَہ گیا ہے؟   چَمکے ہیں ہَر سَمت اَب شُوخ رَوشَنِی کے چَراغ یاد کا لَیکِن فَقَط اِک دُھںدلَا اَثَر رَہ گیا ہے…

Loading

Iconoclasts بُت شکن ۔

Iconoclasts are individuals who challenge or reject established beliefs, traditions, or values, often in a radical or innovative manner. The term originally referred to those who opposed the use of traditional religious icons and images used by some of the…

Loading

غزل

 دمِ رخصت بوجھل دل سے میں بھی چلتا رہا اس رات کوئی دہلیز سے لگ کے روتا رہا اداس آنکھوں میں خواب ٹوٹ کے بکھر گئے چراغ شوق ہوا کے دھکوں سے جھپکتا رہا وصال کے دن بھی ہجر کی…

Loading

غزل

ہوا کا زور تھا طائر یہ پھڑ پھڑاتا رہا فنا بھی ہوتا رہا راہ بھی دکھاتا رہا فضا میں اُڑتے ہوئے آںکھ میں تھا ایک خَاب نظر کا نُور بھی بُجھ کر تُجھے جگاتا رہا گُزر گئے ہیں کئی کارواں…

Loading

حیاء عورت کا تاج

حیاء عورت کا تاج — آنکھ کا احترام تمہید انسانی معاشرت میں عورت کی شخصیت، کردار اور مقام کا سب سے قیمتی زیور حیاء ہے۔ قرآن و سنت میں حیاء کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم…

Loading

غزل

پَردیس میں رُوزی، سَر چُھپانے کو ٹھِکانے ڈھوںڈتا رہا زَہریلا ناگ دیس میں، میرے گھر میں خَزانِے ڈھوںڈتا رہا مَیں اُس کی دَہلیز پر اَپنا آخِری خَط چھوڑ آیا تھا وُہ شَہر کو بَتانے کے لِیے فَسانے ڈھوںڈتا رہا جِن…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

کِیا ہوتا ہے مَیں ہوں کہ تُم ہواپنے ہیں سب ہی، خُوشی ہو یا غَم ہو یادوں کی خُوشبُو ہے سانسوں کے ساتھخوابوں کے موسِم میں چاہَت کا نَم ہو دُنیا کے رَستے بَدَلتے رہیں گےمگر دِل کی رَہ میں…

Loading

فاخِتہ

فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…

Loading