Kheyal Darya

A mound of thoughts

Latest post

Poem نظم

تیرا ذکر کیے بغیر

کیسے مناؤں اس خط کوکہ جب سطر پر جھکےتو لفظوں کے بیچ سےتیری خوشبو اُٹھنے لگے کاغذ کے باریک ریشےتیری سانسوں کا لمس بن جائیں،اور ہر جملہمیرے دل کی دھڑکن جیسا لگے۔ میں تیرا نام نہ لکھوںاور پھر بھی ہر…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

کاش یہ خَط مِری خَلوَت کا رازداں بَنےکہ بے زَباں بھی تِری قُربَت کا تَرجُماں بَنے کَیسے مَناؤں خَط کو یہ رازداں بَنےکہ تِیرے ذِکر کے بَغیر بھی تِری خُشبُو عِیاں بَنے کاغَذ کے ریشے سانس لیں تِری ہَوا کے…

Loading

Poem نظم

مجھے میرا پاکستان چاہئے

مجھے میرا پاکستان چاہئے! وہ نعرہ جو پہلی بار گونجا تھا، جب زمین نے آسمان سے کہا “لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ” میں نے خواب دیکھا تھا، ایک وطن جہاں اسلام قانون ہو، جہاں ہر نفس چراغ کی مانند محفوظ ہو،…

Loading

Poem نظم

اُمید کی زَنجِیر

مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…

Loading

Poem Poetry نظم

نظم 

رونے والی بات پہ بھی مَیں روتا نَہیںروتا ہے سارا بَدَن، اِفری، اَکھِیوں کے سِوا خواب جو بکھرے ہیں پَلکوں پر ٹُوٹ کرچُھپتے ہیں دَردِ دِل کے، سَناٹے کے سِوا رات کے سَناٹے میں صَدا تیری سُن کےہَلکی سی لَرزِش…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

جہاں میں جو بھی نُور و جَمال ہے وُہ سب حقیقت میں اُس کا وِصال ہے دِل کی گہرائیوں میں جو چَمک رَہا وُہی رَوشنی ہے، وُہی اِک جَمال ہے خاموشیوں میں بھی اِک صَدا سُنی ہے جو دِل کو…

Loading

حکایاتِ افراہیم

حکایت 8 (ناقابل جواب سلام)

ناقابل جواب سلام شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کی سنہری کرنیں دیواروں پر بکھر رہی تھیں اور ہلکی ہلکی شام کی ہوائیں فضا کو سہلا رہی تھیں۔ چھوٹا آدم اپنے والد کے ہمراہ کچھ خریداری کے لیے نکلا۔ جب…

Loading

Thoughts and Reflections

آوارہ خیال

آوارہ خیال میں نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو عورت کی توہین میں لذت پاتا ہو، مگر یہ کہ وہ خود مردوں کے درمیان ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اِفری

Loading

Poem نظم

سوچنے کی بات

سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…

Loading

Poem نظم

ہم کہاں سے کہاں آ گئے

ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…

Loading